اپوزیشن اجلاس میں متفقہ حکمت عملی بنانے پر اتفاق ہوگیا ہے ،ْشہباز شریف

نیب کو آدھے دھیلے کی بھی کرپشن نہیں ملے گی ،ْاپوزیشن نے واضح کردیا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین قائد حزب اختلاف ہوگا ․ حکومت کی 100 روزہ کارکردگی پر اسمبلی میں بات کروں گا، نیب قیامت تک کچھ ثابت نہیں کر سکے گا ،ْ اپوزیشن لیڈر کی میڈیا سے بات چیت

منگل دسمبر 18:49

اپوزیشن اجلاس میں متفقہ حکمت عملی بنانے پر اتفاق ہوگیا ہے ،ْشہباز شریف
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 دسمبر2018ء) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہاہے کہ اپوزیشن نے واضح کردیا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین قائد حزب اختلاف ہوگا۔اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس شہباز شریف کی زیرصدارت اسلام آباد میں ہوا جس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے اجلاس میں ایوان میں متفقہ حکمت عملی بنانے پر اتفاق ہوا، ایوان کا وقت ضائع ہونے سے بچائیں گے اور اپنی ذمہ داری پوری کریں گے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پیپلز پارٹی سمیت تمام جماعتوں کا اعتماد کرنے پر شکر گزار ہوں، چیئرمین پی اے سی پر حکومت بہانے بنا رہی ہے ،ْ اپوزیشن کا مؤقف حقائق پر مبنی ہے۔شہباز شریف نے کہاکہ نواز شریف دور کے آڈٹ پیراز کو قائد حزب اختلاف چیئر نہیں کریگا ،ْگزشتہ دور کیلئے سب کمیٹی بنا دیں چاہے اس کی سربراہی تحریک انصاف لے لے۔

(جاری ہے)

حمزہ شہباز کو ایئرپورٹ پر روکے جانے سے متعلق سوال پر شہباز شریف نے کہا کہ حمزہ شہباز کے معاملے میں زیادتی ہوئی، یہ سویلین ڈکٹیٹر شپ ہے، حکومتی سفاکی کی مذمت کرتے ہیں۔

خواجہ براداران سے متعلق شہباز شریف نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کو گرفتار کرلیا لیکن مالم جبہ کیس میں ابھی تک کسی کو ہاتھ نہیں لگایا گیا، نیازی اور نیب کا غیر مقدس الائنس ہے اور اپوزیشن سیاسی انتقام کی مذمت کرتی ہے۔شہباز شریف نے کہاکہ حکومت کی 100 روزہ کارکردگی پر اسمبلی میں بات کروں گا، نیب قیامت تک کچھ ثابت نہیں کر سکے گا اور انہیں آدھے دھیلے کی بھی کرپشن نہیں ملے گی۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے عوام کی خدمت کی ہے، میں نے صوبے کو بطور خادم کے اپنا خون پسینہ دیا ہے۔