پیپلزپارٹی نے نیب قوانین میں ترامیم کا مطالبہ کردیا

بلاول بھٹوکونیب نوٹس بھیجنےکی مذمت، ہم جب باہر نکلےتوسب دیکھیں گے، ملک میں افرتفریح پھیلی توبدقسمتی ہوگی، ہمارا احتساب ہوتا رہا ہے اب آپ کا ہوگا، نیب کے سامنے نہیں جھکیں گے۔پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماؤں مولابخش چانڈیو، فرحت اللہ بابراورنیئر بخاری کا ردعمل

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ منگل دسمبر 18:21

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 دسمبر 2018ء) پاکستان پیپلزپارٹی نے نیب قوانین میں ترامیم کا مطالبہ کردیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کو نوٹس بھیجنے کی مذمت کرتے ہیں، ہم جب باہر نکلے توسب دیکھیں گے، ملک میں افرتفریح پھیلی توبدقسمتی ہوگی،ہمارا احتساب ہوتا رہا ہے اب آپ کا احتساب ہوگا،نیب کے سامنے نہیں جھکیں گے۔

پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماؤں مولابخش چانڈیو، فرحت اللہ بابر اور نیئر بخاری چیئرمین پیپلزپارٹی کو نیب کے بے بنیاد الزامات کے نتیجے میں بھجوائے گئے نوٹس پر ردعمل کا اظہار کررہے تھے۔ سینئر رہنماء پیپلزپارٹی مولابخش چانڈیونے کہا ہے کہ ہمارا احتساب ہوتا رہا ہے اب آپ کا احتساب ہوگا،ہم جب باہر نکلے توسب دیکھیں گے۔

(جاری ہے)

نیب اور سیف الرحمن کمیشن میں زمین آسمان کا فرق ہونا چاہیے تھا۔

آپ کا احتساب عوام کریں گے۔ ملک میں افرتفریح پھیلی توبدقسمتی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی بلاول بھٹو جلسہ کرتے ہیں اگلے دن نوٹس آ جاتا ہے۔ بلاول بھٹو کو نوٹس جاری کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے رہنماء نیئر بخاری نے کہا کہ 21 سال بعد بلاول بھٹو کو طلب کیا جارہا ہے۔ پیپلزپارٹی کے خلاف اقدامات نئی بات نہیں ہے۔ قومی احتساب بیوروکوغیرجانبدار ہونا چاہیے۔

سمجھ نہیں آتی کہ نیب نے ایکٹ اور پرانا ریکارڈ نہیں دیکھا؟ پارک لین کمپنی پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق بنائی گئی ہے۔ بلاول کو اس کیس میں طلب کیا جارہا ہے جس کی 1997ء میں ٹرانزیکشن ہوئی۔اس کیس میں 1997ء میں آصف زرداری کو بھی طلب کیا اور جبر کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے کارکن نیب کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ فرحت اللہ بابر نے نیب قوانین میں ترامیم کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ واضح ہوگیا ہے کہ نیب ایک سیاسی ادارہ بن چکا ہے۔نیب قانون میں ترمیم ہونی چاہیے۔سب کیلئے ایک قانون اور ایک ادارہ قائم کیا جائے۔