شوگر ملز مالکان فوری طور پر کرشنگ شروع کریں ، کرشنگ کی بندش سے کاشتکاروں کا نقصان ہو رہا ہے،محمودخان

منگل دسمبر 20:37

شوگر ملز مالکان فوری طور پر کرشنگ شروع کریں ، کرشنگ کی بندش سے کاشتکاروں ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 دسمبر2018ء) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے شوگر ملز مالکان کو تنبیہ کی ہے کہ فوری طور پر کرشنگ شروع کریں کیونکہ کرشنگ کی بندش سے کاشتکاروں کا نقصان ہو رہا ہے جس پر سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔ اگر بروقت کرشنگ شروع نہ کی گئی تو حکومت اپنے قانونی اختیارات کو استعمال میں لاتے ہوئے شوگر ملز کو اپنی تحویل میں لے کر اپنے ایڈمنسٹریٹر کے ذریعے کرشنگ شروع کرے گی کیونکہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہو گا۔

یہ ہدایات اُنہوںنے وزیراعلیٰ ہائوس پشاور میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی ، وزیر خوراک حاجی قلندر خان لودھی، چیف سیکرٹری نوید کامران بلوچ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری محمد اسرار خان، سیکرٹری خزانہ شکیل قادر، سیکرٹری خوراک اکبر خان ، کمشنر شو گر کین سعادت حسن اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔

(جاری ہے)

اجلاس میں شوگر ملز مالکان کی طرف سے کرشنگ کی بندش اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل خصوصاً کاشتکاروں کے تحفظات اور مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اجلاس کو شوگر ملز مالکان کے مطالبات کی نوعیت ، محکمے کی طرف سے تاحال اُٹھائے گئے اقدامات ، شوگر ملز مالکان کے ردعمل اور مسئلے کے حل کیلئے قانونی اختیارات کے حوالے سے بھی بریف کیا گیا ۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ متعلقہ شوگر ملز کی طرف سے کرشنگ شروع نہ کرنے کی وجہ سے ڈیرہ اسماعیل خان میں نہ صرف امن و امان کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں بلکہ پانچ سے چھ ہزار خاندان بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور ہدایت کی کہ سیکرٹری خوراک ، کمشنر شوگر کین ، کمشنر ڈی آئی خان اور ڈی آئی جی ڈیرہ اسماعیل خان میں جا کر متعلقہ ملز مالکان کے ساتھ اجلاس کریں اور اُن کو مسئلے کی نوعیت سے آگاہ کریں۔

اگر شوگر ملز مالکان احتجاج ختم کرکے کرشنگ بروقت شروع کرتے ہیں تو ٹھیک بصورت دیگر حکومت قانونی اختیارات استعمال کرے گی اور متعلقہ ملز کو اپنی تحویل میں لے لے گی اور اپنے ایڈمنسٹریٹر کے ذریعے کرشنگ شروع کرے گی ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم کاشتکاروں کو مزید پریشان اور متاثر نہیں ہونے دیں گے ۔ اُن کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں گے