حکومت میڈیا ورکرز کے ساتھ کھڑی ہے ،ْہم ان کے حقوق کا تحفظ کریں گے ،ْ چوہدری فواد حسین

صحافیوں کی متعلقہ تنظیموں کے ساتھ مل کر مسئلے کو حل کرانے کیلئے ہر ممکن کردار ادا کرینگے ،ْاداروں سے چھانٹیوں کا عمل رکنا چاہیے ،ْ ذرائع ابلاغ کی صنعت کو ریلیف ملنا چاہیے ،ْ وفاقی وزیر کی یقین دہانی پرصحافیوں نے واک آئوٹ ختم کر دیا

منگل دسمبر 20:44

حکومت میڈیا ورکرز کے ساتھ کھڑی ہے ،ْہم ان کے حقوق کا تحفظ کریں گے ،ْ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 دسمبر2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے صحافیوں کی برطرفیوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگیوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں کی متعلقہ تنظیموں کے ساتھ مل کر مسئلے کو حل کرانے کیلئے ہر ممکن کردار ادا کرینگے ،ْاداروں سے چھانٹیوں کا عمل رکنا چاہیے ،ْ ذرائع ابلاغ کی صنعت کو ریلیف ملنا چاہیے ،ْ حکومت میڈیا ورکرز کے ساتھ کھڑی ہے ،ْہم ان کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔

منگل کو پارلیمانی رپورٹرز نے پریس گیلری سے مختلف ٹی وی چینلز اور اداروں سے صحافیوں اور ورکرز کی برطرفیوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگیوں کی صورتحال پر واک آئوٹ کیا۔ اس موقع پر حکومت کی طرف سے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین‘ پارلیمانی سیکرٹری عندلیب عباس اور زرتاج گل پریس لائونج میں بات چیت کیلئے آئے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر پی آر اے کی قیاد ت نے وزیر اطلاعات و نشریات کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی صحافیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ مختلف ٹی وی چینلز اور اداروں نے پرویز مشرف‘ پیپلز پارٹی اور نواز شریف کے ادوار کے سات ارب روپے کے بقایا جات کا کلیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی او سرکاری اشتہارات کی نگرانی کرتے ہیں۔ ہمارا کلائنٹ ادارہ نہیں بلکہ ایڈورٹائزنگ ایجنسی ہے۔ اداروں کا 7 ارب روپے میں سے 1.3 ارب روپے مصدقہ رقم ہے جس میں سے وفاقی حکومت نے 22 کروڑ روپے جاری کردیئے ہیں جبکہ پنجاب کی صوبائی حکومت 26 کروڑ روپے جاری کرنے جارہی ہے۔

حکومت نے صحافی بھائیوں اور میڈیا ورکرز کو ریلیف دینے کی غرض سے یہ رقم ریلیز کی ہے۔ مشکل ترین حالات کے باوجود ہم نے ادائیگی کی ہے اور ہم نے یہ رقم کفایت شعاری سے جمع کی تھی وہ ہم نے ذرائع ابلاغ کو ادا کردی ہے۔ ہم اشتہارات کے حوالے سے نئی ایڈورٹائزنگ پالیسی بنانے جارہے ہیں۔ ہم ایڈورٹائزنگ ایجنسی کا کردار ختم کرکے براہ راست اشتہارات دینے پر غور کر رہے ہیں۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم صحافیوں کا ساتھ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جب اداروں کو ادائیگی کرتے ہیں تو وہ نئی رولز رائس اور اپنے لئے جہاز لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اداروں کو اپنے ورکرز کا خیال کرنا چاہیے۔ اس موقع پر صحافیوں نے مطالبہ کیا کہ اے پی این ایس سے جب بھی اس معاملے پر بات کی جائے تو صحافتی تنظیموں کے نمائندوں کو بھی اس موقع پر ضرور بلایا جائے۔

وزیر اطلاعات نے پی آر اے اور پارلیمانی رپورٹرز کے اس موقف سے اتفاق کیا کہ اے پی این ایس کے ساتھ بات چیت کے عمل میں صحافتی تنظیموں کا 15 رکنی وفد بھی شامل ہوگا اور حکومت اس مسئلے کو حل کرانے کے لئے ہر ممکن کردار ادا کریگی ۔ وزیراطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کی یقین دہانی کے بعد صحافیوں نے واک آئوٹ ختم کر دیا ۔