گناہ ٹیکس کی مد میں حکومت کو سالانہ 60 سے 70 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان

مشروبات پر ٹیکس لگانے کی صورت میں مزید 40 سے 50 ارب روپے حاصل ہونے کا بھی امکان، تمام پیسہ محکمہ صحت کو دیا جائے گا

muhammad ali محمد علی منگل دسمبر 21:10

گناہ ٹیکس کی مد میں حکومت کو سالانہ 60 سے 70 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 دسمبر2018ء) گناہ ٹیکس کی مد میں حکومت کو سالانہ 60 سے 70 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان، مشروبات پر ٹیکس لگانے کی صورت میں مزید 40 سے 50 ارب روپے حاصل ہونے کا بھی امکان، تمام پیسہ محکمہ صحت کو دیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے کچھ روز قبل اعلان کیا گیا تھا کہ ملک میں تمباکو مافیا کو قابو میں کرنے کیلئے ٹیکسز عائد کیے جائیں گے۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی تمباکو کی مصنوعات پر نئے ٹیکس عائد کیے جائیں گے۔ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ سگریٹس پر گناہ ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ سگریٹ نوشی کے عادی افراد کو ہر یاک سگریٹ کی خریداری پر ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے اب معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو سیکٹر پر گناہ ٹیکس عائد کرکے حکومت کو سالانہ اربوں روپے کا فائدہ ہو سکتا ہے۔

(جاری ہے)

ایک اندازے کے مطابق گناہ ٹیکس کے نفاذ سے حکومت سالانہ 60 سے 70 ارب روپے حاصل کر سکتی ہے۔ جبکہ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ حکومت مضر صحت مشروبات پر بھی ٹیکس عائد کرے گی۔ سافٹ ڈرنکس کے نام سے فروخت ہونے والی مشروبات پر بھی ٹیکس لگا کر سالانہ 30 سے 40 روپے سے زائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس حوالے سے حکومت ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے ہدایت جاری کی ہے کہ گناہ ٹیکس اور مشروبات پر عائد کیے جانے والے ٹیکس سے جتنا بھی پیسہ اکٹھا ہوگا، وہ سب کے سب صحت کے شعبے کو دیا جائے گا۔ گناہ ٹیکس اور مشروبات پر عائد ٹیکس سے حاصل ہونے والا پیسہ ملک کی غریب عوام کو بہتر صحت کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے استعمال ہو سکے گا۔