سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی ترقیات و اصلاحات کا اجلاس

کوئٹہ ڈی جی خان روڈ پر پیش رفت، پاور سیکٹر کے منصوبوں کے لئے فنڈز کے اجراء، واپڈا کے منصوبہ جات کے لئے فنڈز کے معاملات، بلوچستان میں سمال ڈیمز کی تعمیرکاجائزہ لیا گیا مسلم باغ سے قلعہ سیف اللہ روڈ منصوبے کی تفصیلات طلب، چیئرمین این ایچ اے کی اجلاس میں عدم شرکت پر اظہار برہمی

جمعرات دسمبر 17:42

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 دسمبر2018ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی ترقیات و اصلاحات کا اجلاس سینیٹر ڈاکٹر اسد اشرف کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کوئٹہ ڈی جی خان روڈ کی پیش رفت، مالی سال 2017-18ء میں وزارت پاور کی پاور سیکٹر کے منصوبوں کے لئے فنڈز کے اجراء، وزارت آبی وسائل کے واپڈا کے منصوبہ جات کے لئے فنڈز کے معاملات کے علاوہ صوبہ بلوچستان میں سمال سو ڈیمز کی تعمیر کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

کوئٹہ ڈی جی خان روڈ کی تعمیر کے حوالے سے قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ 520کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ حکومتی فنڈ کے چار منصوبے تھے جو مکمل ہو چکے ہیں اور تین منصوبے ایشیائی ترقیاتی بینک کے ہیں جن میں سے ایک مکمل ہوا ہے دو پر کام جاری ہے۔

(جاری ہے)

پورے منصوبے کو مختلف مراحل میں شروع کیا گیا جو 2002 ء سے 2019 ء تک کا منصوبہ ہے قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کچلاک کوئٹہ نادرن بائی پاس کا منصوبہ 6671 ملین کا تھا بعد میں اضافی کام کے لئے یو ایس ایڈ کے فنڈ سے اس کا پی سی ون 19,140ملین کا ہو گیا۔

اس منصوبے کا آغاز مئی 2017میں ہوا۔ کچلاک زیارت موڑ دو لائن کا منصوبہ مکمل ہو چکا ہے زیارت موڑ سے مسلم باغ 67کلومیٹر کا منصوبہ بھی مکمل ہو چکا ہے مسلم باغ اور قلعہ سیف اللہ کا دو لائن کا منصوبہ بھی مکمل ہو چکا ہے۔ رکن کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ کچلاک کوئٹہ نادرن بائی پاس 15کلومیٹر کا منصوبہ تھا جس پر اربوں روپے خرچ کئے گئے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 1کلومیٹر کی تعمیر پر 18کروڑ روپے تقریباً خرچ کئے گئے۔

سینیٹر محمد عثمان محمد خان کاکڑ نے کہا مسلم باغ سے قلعہ سیف اللہ روڈ پر مرمت کا کام جاری ہے اور مرمت کے لئے جو میٹریل استعمال کیا جا رہا ہے وہ معیاری نہیں ہے اور ایسی ناقص انجینئرنگ کی گئی ہے کہ خطرناک موڑ رکھ کر سینکڑوں حادثات کا سبب بنا دیا گیا ہے۔ قائمہ کمیٹی نے منصوبے کی تمام تر تفصیلات آئندہ کمیٹی میں طلب کر لیں۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ اسلام آباد سیف سٹی کا منصوبہ 124ملین ڈالر کا دیا گیا جو صرف 25 ملین ڈالر کا تھا اس کی ٹینڈرنگ بھی نہیں کرائی گئی تھی اور صرف ایک پارٹی کو دیا گیا تھا۔

کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ منصوبے کی تکمیل میں تاخیر پر یومیہ 0.1% جرمانہ عائد کیا جاتا ہے سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ گاڑنگ پہاڑ کے آگے ایک روڈ ہے این ایچ اے حکام نے اس کی ساری مٹی ایک چھوٹے ڈیم میں بھر دی ہے صوبے میں پہلے ہی پانی کی بہت کمی ہے اس سے مسائل پیدا ہوں گے۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ کوئی ایسا منصوبہ دیکھنے میں نہیں آیا جس کو وقت پر مکمل کیا گیا ہو ہر منصوبے کا پی سی ون تبدیل کر کے منصوبے کی لاگت میں ہوشربا اضافہ کیا گیا۔

قلعہ سیف اللہ اور لورالائی این۔70 کا منصوبہ 6849 ملین روپے کا تھا جس کی کنسلٹینسی فیس 24لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 52لاکھ ڈالر ادا کی گئی اور مقامی کمپنی کو کنسلٹینسی فیس 16کروڑ سے بڑھا کر 51کروڑ ادا کی گئی۔ یہ منصوبہ فروری 2019ء تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔ قائمہ کمیٹی نے سیکرٹری مواصلات چیئرمین این ایچ اے کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے احتجاجاً این ایچ اے کے منصوبہ جات کی بریفنگ موخر کر دی اور آئندہ اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کر دی ورنہ معاملہ استحقاق کمیٹی میں بھیجا جائے گا۔

قائمہ کمیٹی کو پاور ڈویژن کے پاور سیکٹر میں مالی سال 2017-18 کے منصوبہ جات اور فنڈز کے بارے تفصیلی آگاہ کیا گیا۔دیامیر بھاشا ڈیم کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس منصوبے کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے زمین کے لیے 101ارب روپے مختص کئے گئے جس میں سے 85 ارب روپے زمین کی خریداری کے لئے جاری ہوئے۔ زمین کی خریداری تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ 12ارب روپے کا اس میں سے ٹیکس ادا کیا گیا اور 474ارب روپے ڈیم کی تعمیر پر خرچ ہوں گے جبکہ پاور منصوبہ پر علیحدہ بجٹ مختص کیا جائے گا اور ابھی تک ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے 8 ارب روپے اکٹھے ہو چکے ہیں جس پر قائمہ کمیٹی نے قوم سے اپیل کی کہ وہ ڈیم کے تعمیر کے حوالے سے فنڈ اکٹھا کرنے میں زیادہ سے زیادہ حصہ ڈالیں۔

سینیٹر میر کبیر احمد محمد شاہی نے کہا کہ گوادر کے پانی کے لئے اس کو شامل کریں تو دل کھول کر منصوبے میں حصہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان کے دس گرڈ اسٹیشن بنانے کا گزشتہ پانچ سالوں میں منصوبے صرف کاغذوں میں نظر آ رہے ہیں نہ ہی فنڈ کا اجرا کیا جا رہا ہے اور نہ ہی عملی کام نظر آ رہا ہے۔ جس پر ایڈیشنل سیکرٹری وزارت منصوبہ بندی نے کہا کہ پی ایس ڈی پی بناتے وقت سفارش کی گئی تھی کہ نئے منصوبے شروع کرنے کی بجائے پہلے جاری منصوبوں کو مکمل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی میں بھی کچھ مسائل ہیں۔ 2017-18ء کے لئے وزارت خزانہ نے فنڈ کے اجراء کے لئے اسائن اکائونٹ کھولنے کی ہدایت کی تھی کمیٹی کو بتایا گیا کہ مالی سال کے ختم ہونے کے دو دن پہلے فنڈ فراہم کئے گئے۔ کمیٹی نے بلوچستان کے لئے کتنے گرڈ اسٹیشن بنانے کے لئے کتنے فنڈ کا اجراء کیا گیا اور ان گرڈ اسٹیشن کی موجودہ صورتحال کیا ہے بارے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبائی ادارں کی طرف سے ان کا پی سی ون بھی فراہم نہیں کیا جاتا۔ جس پر قائمہ کمیٹی نے گزشتہ پانچ سالوں میں چاروں صوبوں کے پی ایس ڈی پی کے پروگرام اور ان کے فنڈ کے اجراء کی تفصیلات طلب کر لیں۔ سینیٹرمحمد عثمان کاکڑ نے کہا کہ صوبہ بلوچستان کی عوام کے لئے پانی، بجلی اور گیس کی فراہمی اور منصوبوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے فراہم کردہ لسٹ میں پی ایس ڈی پی کے دو ہزار ارب کے منصوبے ہیں جس میں بلوچستان کے دس ارب کے بھی منصوبے نہیں ہیں۔

سینیٹر رخسانہ زبیری نے کہا کہ کوٹلی میں ایک ڈیم تعمیر کیا جا رہا ہے اور وہاں کے عوام احتجاج کر ر ہے ہیں کہ اس ڈیم کو علاقے کا نام دیا جائے یہ ان کا حق ہوتا ہے جودیا جانا چاہیے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا چترال کے پیچھے ایک روڈ جو سی پیک کا حصہ تھی اور اس کا منصوبہ بھی منظور ہو چکا تھا اس منصوبے کو موجودہ حکومت نے کینسل کر دیا ہے جس پر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ منظور شدہ کسی بھی منصوبے کو کینسل نہیں کیا گیا رکن کمیٹی طلحہ محمود کے تحفظات کو آئندہ اجلاس میں دور کر دیا جائے گا۔

سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ خان پور روڈ کو این ایچ اے مکمل کر رہا تھا درمیان سے 8کلومیٹر اور شروع کی4کلومیٹر پر کام رک گیا تھا۔ این ایچ اے حکام نے کمیٹی اجلاس میں یقین دہانی کرائی تھی کہ منصوبے کو مکمل کیا جائے گا۔ آئندہ اجلاس میں چیئرمین این ایچ اے اس حوالے سے تفصیلی بریف دیں۔ قائمہ کمیٹی کو پی ایس ڈی پی کے مالی سال 2017-18 کے واپڈا اور پانی کے منصوبوں بارے تفصیلی آگاہ کیا گیا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ 51.5ارب کے مختلف منصوبہ جات تھے جن پر 24.5ارب روپے خرچ کئے گئے۔ سینیٹر میر کبیر احمد شاہی نے کہا کہ کچھی کینال کا منصوبہ 2002ء میں شروع ہوا 2008ء میں مکمل ہونا تھا 2018ء ختم ہو رہا ہے مگر بلوچستان کے عوام اس منصوبے سے مستفید نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے یہ منصوبہ صوبہ پنجاب کے بارڈر تک پہنچایا اور پنجاب کے عوام ہی اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے بلوچستان کے 7لاکھ ایکڑ زمین کو آباد کرنا تھا اور بھی تک صرف 7.5ہزار ایکڑ زمین کو آباد کیا جا رہا ہے۔ جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت بلوچستان کو 72ہزار کمانڈ ایریا تیار کرنے کا کہا گیا اور صرف10ہزار کمانڈ ایریا بنایا گیا۔ وہاں سیٹلمنٹ کے مسائل ہیں۔ لوگ چینل کے لئے زمین فراہم نہیں کر رہے جس پر اراکین کمیٹی نے ایسے لوگوں کی لسٹ طلب کر لی تاکہ ان کے ساتھ مذاکرات کر کے مسائل حل کئے جا سکیں۔

سینیٹر میر کبیر احمد محمد شاہی نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں سو چھوٹے ڈیم کی تعمیر بلوچستان کی عوام کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ یہ ڈیم انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان میں چھوٹے اور بڑے ڈیم شامل ہیں جو سیلابی پانی کو اکٹھا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں ایم پی ایز نے بے شمار جگہوں پر چھوٹے ڈیم تعمیر کرائے جن کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

نہ ہی پانی اکٹھا ہوتا ہے۔ ابھی سو ڈیم کے تین پیکج میں سے دو مکمل ہو چکے ہیں تیسرے پیکج کے لئے اگر 200 ملین روپے صوبائی حکومت کو فراہم نہ کئے گئے تو یہ منصوبہ 2019ء کی بجائے 2036ء تک بھی مکمل نہیں ہو گا۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا قلعہ سیف اللہ میں نخل ڈیم بنا ہوا ہے وہاں درخت لگا کر پانی کو صاف کیا جائے اور محفوظ کیا جائے۔ کمیٹی کو بتایا کہ سو ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے گزشتہ سال 300ملین جاری کئے گئے اور خرچ بھی کئے گئے اور ابھی تک صرف منصوبے کا 8 فیصد فنڈ دیا گیا ہے جبکہ کام 45 فیصد ہو چکا ہے۔

ٹھیکیدار بے شمار مسائل کا سامنا کر رہے ہیں جس پر قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں وزارت خزانہ کو اس حوالے سے طلب کر لیا۔ اراکین کمیٹی نے سمال ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے وزارت منصوبہ بندی کی پلیننگ کو ناقص قرار دے دیا اور کہا کہ ایسی منصوبہ بندی کی جائے جس سے منصوبے بروقت مکمل ہو سکیں جس سے نہ صرف اضافی فنڈز خرچ کرنے سے بچ سکتے ہیں بلکہ ملک وقوم کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔

کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز انجینئر رخسانہ زیبری، میر کبیراحمد محمد شاہی، محمد عثمان خان کاکڑ، محمد طلحہ محمود، حاجی مومن خان آفریدی، مرزا محمد آفریدی کے علاوہ ایڈیشنل سیکرٹری وزارت پلاننگ علی رضا، جوائنٹ سیکرٹری جے ایس پاور ڈویژن آصف شیخ، این ایچ اے، واپڈا اور پاور ڈویژن کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔