اسلام آباد ہائی کورٹ نے جنرل (ر)اسد درانی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت 24جنوری تک ملتوی کر دی

جمعرات دسمبر 20:45

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 دسمبر2018ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے سابق سربراہ جنرل (ر)اسد درانی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت 24جنوری تک ملتوی کر دی ۔جمعرات کو عدالت عالیہ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے جنرل (ر)اسد درانی کی درخواست پر سماعت کی۔اس موقع پر جنرل (ر )اسد درانی اپنے وکیل عمر آدم ایڈووکیٹ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔

اسد درانی کے وکیل نے بتایا کہ اسد درانی 1993 میں پاک فوج سے ریٹائرڈ ہوئے،اسد درانی فوج سے ریٹائرڈمنٹ کے بعد اہم عہدوں پر فائز رہئے ۔فاضل جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ آفیشل سیکریٹ کتاب میں کیا لکھا گیا ہے ۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اسد درانی کی کتاب کے کسی بھی اختسا ب کو کسی نے چیلنج نہیں کیا گیا۔

(جاری ہے)

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا کتاب لکھنے سے قومی سیکورٹی کو خدشہ ہے۔

سماعت کے دوران وزارت دفاع کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ اسد درانی کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت انکوائری جاری ہے،اصغر خان کیس میں بھی واضح جواب وزارت دفاع نے جمع کرایا ہے ۔وزارت دفاع کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ اسد درانی کے خلاف دو الگ الگ انکوائری کی جاری ہیں۔سماعت کے دوران وزارت دفاع نے اضافی جواب بھی عدالت میں جمع کرا دیا ۔ سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی کے باعث عدالت نے کیس کی سماعت 24 جنوری تک کے لئے ملتوی کر دی۔