سید علی گیلانی کا غیر قانونی طو ر پر نظر بند کشمیریوں کی حالت زار پر اظہار تشویش

انسانی حقوق کے ادارو ں سے نظر بندوں کی رہائی کیلئے کردار ادا کرنے کی اپیل

جمعرات دسمبر 22:16

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 دسمبر2018ء) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے مقبوضہ علاقے کی اور بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند کشمیریوں کی حالت زار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کو سیاسی اختلافات کی بنیاد پر محض فرضی الزامات کے تحت قید کیاگیا ہے ۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ اس وقت حریت رہنمائوں اور کارکنوں سمیت ہزاروںکی تعداد میں عام کشمیری نوجوان جیلوں اور عقوبت خانوں میں جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات کے تحت قید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قابض انتظامیہ اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے ان لوگوں کی غیر قانونی نظر بندی کو طول دے رہی ہے جبکہ انہیں طبی سمیت تمام بنیادی سہوہات سے محروم رکھا گیا ہے۔

(جاری ہے)

سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارت جموںوکشمیر پر اپنے غیرقانونی قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے نہتے کشمیریوں پر بدترین مظالم ڈھا رہا ہے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ انہیں اطلاعات مل رہی ہیں کہ بھارتی ریاست ہریانہ کی جیل میںنظر بندآزادی پسند رہنمائوں اور کار کنوں کو اپنے اہلخانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی جو مقبوضہ وادی کشمیر سے لمبی مسافت طے کرکے اپنے پیاروں سے ملاقات کے لیے ہریانہ پہنچتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نظر بندوں کے اہلخانہ کو اپنے پیاروں کے ساتھ ملاقات کی اجازت نہ دینا اخلاقی اور انسانی اقدار کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر واحد خطہ ہے جہاں لوگوں کو پر امن مظاہروں، جنازوں اور تعزیتی مجالس میں شرکت کی اجازت نہیں دی جاتی ۔سید علی گیلانی نے کہا کہ نظر بندوں کو جھوٹے مقدمات میں کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لگا کر برسہابرس تک جیلوں میں سڑایا جا تا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں یہ غیر قانونی اور غیر انسانی ہتھکنڈے گزشتہ 71برس سے جاری ہیں۔ حریت چیئرمین نے کہا کہ سینئر حریت رہنما مسرت عالم بٹ پر اب تک 37بار متواتر طور پر کالا قانون پی ایس اے لاگو کیا گیا اور وہ گزشتہ 9سال سے نظر بند ہیں۔ سید علی گیلانی نے کہا بھارتی تحقیقاتی ادارے ’نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ‘ نے شبیر احمد شاہ،پیر سیف اللہ،الطاف احمد شاہ، آسیہ اندرابی ایاز اکبر ،راجہ معراج ا لد ین کلوال، شاہد الا سلام ،شاہد یوسف، نعیم احمد خان ،فاروق احمد ڈار، ظہور احمد وٹالی ،محمد اسلم وانی، سید شکیل احمد ، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو جھوٹے مقدمات میں قید کر رکھا ہے جبکہ مسرت عالم بٹ، ڈاکٹر غلام محمد بٹ، ڈاکٹر محمد قاسم،ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، شیر علی بٹ، مرزا نثار، لطیف احمد واجہ ،غلام قادر بٹ، غلام محمد خان سوپوری، غلام احمد گلزار، حکیم عبدالرشید، محمد یوسف فلاحی، نثار حسین راتھر، محمد ایوب میر، شوکت احمد خان، محمد یوسف میر،عبدالغنی بٹ، نذیر احمد، بلال احمد کوٹہ، محمد ایوب ڈار، فیروز احمد بٹ، طارق احمد بٹ، بشیر احمد قریشی، عمر عادل ڈار، شبیر احمد ڈار، شکیل احمد بخشی، عاشق حسین بٹ، بشارت احمد میر، منظور احمد نجار، ریاض احمد ڈار، لطیف احمد راتھر، لطیف احمد ڈار، شوکت احمد گنائی، مشتاق احمد گنائی، سجاد احمد بٹ، مشتاق الا سلام، عبد ا لغنی بٹ، اسدا للہ پرے، فاروق توحیدی، بلال احمد گنائی، ریاض احمد آہنگر، حکیم شوکت، معراج الدین گوجری، سجاد مولوی، عبدالمجید بٹ، فاروق احمد شاہ، عبد ا لرشید مغلو، شیخ محمد رمضان، عاشق حسین نارچور، سرتاج احمد، سراج ا لدین، عمر خان اور دیگر بھی بے بنیاد مقدمات میں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیے گئے ہیں۔

۔ حریت چیئرمین نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ بھارت کی طرف سے کشمیر ی نظر بندوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک کا نوٹس لیتے ہوئے انکی رہائی کے کردار ادا کریں۔دریں اثنا سید علی گیلانی نے تہاڑ جیل میں نظربند آزادی پسند رہنما فاروق احمد ڈار کی والدہ کے انتقال پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحومہ کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی ہے۔