ہم پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے پاکستان میں ایک مؤثر سرمایہ کاری نظام فراہم کر رہے ہیں، صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی

ون ونڈو کی صورت میں طویل نظام کو سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے مزید آسان بنایا جا رہا ہے

Umer Jamshaid عمر جمشید ہفتہ 15 دسمبر 2018 15:49

ہم پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے پاکستان ..
مکہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 دسمبر2018ء،نمائندہ خصوصی،خرّم خان،مکہ) وہ مکہ مکرمہ میں پاکستانی کمیونٹی کے نمائندہ وفد کے ارکان سے خطاب کررہے تھے۔ کمیونٹی کے وفد میں میڈیا، تعمیراتی شعبے، بینکنگ، مزدور طبقہ، فنانس اور اکاؤنٹنگ سیکٹر ، ڈاکٹرز، اور تدریس کے شعبےکے نمائندے شامل تھے۔ صدر نے پاکستانی معیشت میں بیرون ملک پاکستانی کمیونٹی کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ وہ قیمتی زرمبادلہ اپنے ملک بھیج کر ملک کی خدمت کرتے ہیں۔

انہوں نے یہ زر مبادلہ بینکنگ چینلوں کے ذریعے پاکستان بھیجنےکی ضرورت پر زور دیا تاکہ ان کی سخت محنت کی کمائی پاکستان کی معیشت میں ترقی کی محرّک بن سکے.

صدر نے کہا کہ ہم تبدیلی کے لئے آئے ہیں اور ہم سب کو ملکر اسی طرح تبدیلی کا آغاز کرناہے۔

(جاری ہے)

پاک سعودی معاشی تعلقات کے سوال کا جواب دیتے ہوئے، صدر پاکستان نے کہا کہ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان ساتھ دیا ہے۔

پاک سعودی دیرینہ تعلقات کی بنیاد دونوں ممالک کے لوگوں کا آپس میں رابطہ اور پاکستانی عوام کی حرمین شریفین سے محبت ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کی معیشت میں یہ مماثلت ہے کہ ان کی آبادی کا 50٪ سے زائد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ایک بہت بڑی صلاحیت ہے اور یہ نوجوان کو اپنے ممالک کی معیشت مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں اور ان کو کام کرنے کے مواقع ملنا چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی مارکیٹ میں غیر تربیت یافتہ محنت کش طبقے کی نسبت تربیت یافتہ افراد کی طلب میں اضافہ ہوا ہے اور ہمیں اس طلب سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ غیر ملکی پاکستانیوں کے ڈیٹا بیس پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے، ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ غیر ملکی پاکستان اپنے ملک کے لئے ایک اثاثہ اوربیرون ملک پاکستان کے سفیر ہیں اور ہم یقینی طور پر انہیں ترقیاتی عمل میں شامل کریں گے اور انکے تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔ صدر پاکستان نے کمیونٹی کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل کو نوٹ کیا اورکہا کہ وہ پاکستان پہنچ کر متعلقہ اداروں سے ان نکات پر رپورٹ لیں گے۔