کرہ ارض پر مچھلی ایک صحت منداورانسان کیلئے مفید خوراک ہے لیکن اس کی پاکستان میں مارکیٹنگ سب سے بڑا مسئلہ ہے، اعلیٰ معیار کی حامل مچھلی کی مختلف اقسام بشمول سنگھاڑی ،رہو، سول، بام،ترکنڈا،ٹرائوٹ، ڈمرہ ، ملی وغیرہ کی افزائش کے نظام میں بہتری لا کر ان کی پیداوار میں بھی اضافہ کیاجاسکتاہے ،ماہرین ماہی پروری

جمعہ جنوری 16:30

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جنوری2019ء) :ماہرین ماہی پروری نے کہاہے کہ کرہ ارض پر مچھلی ایک صحت منداورانسان کیلئے مفید خوراک ہے لیکن اس کی پاکستان میں مارکیٹنگ سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ مچھلی کی پرورش اور تجارت میں حائل رکاوٹوں کے بارے میں حکومت کو مؤثرپالیسی تشکیل دینی چاہیے ۔ جمعہ کے روز اے پی پی سے بات چیت کے دوران جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے ماہرین ماہی پروری نے بتایا کہ ٹھنڈے اور سمندری پانی کی مچھلیوں کی تجارت اور اس میں حائل رکاوٹوںکو دور کرکے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل کیاجاسکتاہے۔

انہوںنے کہاکہ پاکستان میں اعلیٰ معیار کی حامل مچھلی کی مختلف اقسام بشمول سنگھاڑی ،رہو، سول، بام،ترکنڈا،ٹرائوٹ، ڈمرہ ، ملی وغیرہ پائی جاتی ہیں جن کی افزائش کے نظام میں بہتری لا کر ان کی پیداوار میں بھی اضافہ کیاجاسکتاہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ پاکستان میں بہتر معیار کی مچھلی کی قیمت انتہائی زیادہ ہے اس لئے لوگ سستی مچھلی کی خرید کو ترجیح دیتے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ اگرچہ پاکستان میں فارمی مچھلی بھی وافر مقدار میں دستیاب ہے لیکن اس کا ذائقہ اور معیار دریائی مچھلی کے برابر نہ ہے اس لئے لوگ دریاکی مچھلی کو زیادہ پسند کرتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ اگر پاکستان کے دریائوں میں مچھلی کی افزائش بہتر بنانے کیلئے نئی ہیچریاں قائم کر دی جائیں تو ملکی ضرورت پوری کرنے کے علاوہ اضافی مچھلی برآمد بھی کی جاسکتی ہے۔

متعلقہ عنوان :