متحدہ عرب امارات اور چین سے قرض کی فراہمی کے معاملات تاحال طے نہ ہو سکے

اماراتی حکومت کی جانب سے 6 جبکہ چین کی جانب سے 2 ارب ڈالرز کے قرض کی فراہمی کیلئے تاحال مذاکرات جاری

muhammad ali محمد علی جمعہ جنوری 16:12

متحدہ عرب امارات اور چین سے قرض کی فراہمی کے معاملات تاحال طے نہ ہو ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11جنوری2019ء) متحدہ عرب امارات اور چین سے قرض کی فراہمی کے معاملات تاحال طے نہ ہو سکے، اماراتی حکومت کی جانب سے 6 جبکہ چین کی جانب سے 2 ارب ڈالرز کے قرض کی فراہمی کیلئے تاحال مذاکرات جاری۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے اقتدار میں آنے کے بعد اعلان کیا گیا تھا کہ خزانہ خالی ہے، جبکہ ملکی معیشت انتہائی مشکلات کا شکار ہے۔

جبکہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی تیزی سے گراوٹ کا شکار ہیں۔ ایسے میں وزیراعظم عمران خان ایک نئے مشن پر نکلے اور انہوں نے چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اہم دورے کیے۔ اس دوران وزیراعظم عمران خان اپنے مشن میں کامیاب ہوئے اور تینوں دوست ممالک کی جانب سے پاکستان کو آسان شرائط پر قرض دینے کا اعلان کیا گیا۔

(جاری ہے)

بعد ازاں سعودی عرب نے اپنے وعدہ پورا کرتے ہوئے اب تک پاکستان کو 3 ارب ڈالرز کا قرض فراہم بھی کر دیا ہے۔

تاہم چین اور متحدہ عرب امارات نے تاحال اپنے وعدے کے مطابق پاکستان کو اعلان کردہ قرض فراہم نہیں کیا۔ اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت پاکستان چینی اور اماراتی حکومت کے ساتھ قرض پر عائد شرح سود کے حوالے سے مذاکرات کر رہی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو 2 فیصد کی شرح سود پر قرض فراہم کیا گیا ہے، تاہم چین اور اماراتی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ قرضے کی شرح سود طے نہیں کی گئی۔

حکومت پاکستان کی کوشش ہے کہ چین اور امارات سے بھی حاصل کیے جانے والے قرض پر کم سے کم سود دینا پڑے۔ اس حوالے سے معاملات طے ہونے کے بعد ہی پاکستان کو امارات اور چین کی جانب سے قرض فراہم کیا جائے گا۔ اس حوالے سے ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ پاکستان کو جلد سے جلد معاملات طے کرکے قرض حاصل کر لینا چاہیے۔ جلد سے جلد قرضے کے حصول کے باعث ہی ملکی معیشت میں استحکام پیدا ہوگا۔