ضلع بدین کے کاشت کاروں کا پانی کی قلت پرآبپاشی افسران پر فوجداری اورسول مقدمات درج کرانے کا فیصلہ

جمعہ جنوری 16:54

پنگریو (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جنوری2019ء) ضلع بدین سے تعلق رکھنے والے کاشت کاروں نے کوٹری بیراج سے ضلع بدین کی پانچ تحصیلوں کو پانی فراہم کرنے والی کینالوں پھلیلی اوراکرم واہ میں پانی کی شدیدمصنوئی قلت کے باعث ضلع کی زراعت کوپہنچنے والے کروڑوں روپے کے نقصان کا ذمہ دارآبپاشی افسران کو قراردیتے ہوئے ان افسران کے خلاف ہرجانے اورازالے کے فوجداری اورسول مقدمات درج کرانے کا فیصلہ کیا ہے یہ مقدمات ضلع کے مختلف تھانوں میں درج کرانے کے لیے درخواستیں دی جائیں گی اس سلسلے کا پہلا مقدمہ پھلیلی کینال کے زمینداراورضلع کونسل بدین کے ممبرمیرنوراحمدٹالپر کی جانب سے کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے میرنوراحمد ٹالپرنے اس حوالے سے بتایا کہ محکمہ آبپاشی کے ایکٹ میں درج ہے کہ آبپاشی افسران نہری پانی کی منصفانہ تقسیم اورفصل کی کٹائی تک پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے پابند ہیں اور اس میں کوتاہی کی صورت میں ان کے خلاف ہرجانے اورازالے کے مقدمات درج کرائے جاسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ محکمہ آبپاشی کے افسران ضلع بدین کو پانی فراہم کرنے والی دونوں کینالوں پھلیلی اوراکرم واہ کی شاخوں میں پانی پہنچانے میں مکمل طورپرناکام ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے ضلع کے ہزاروں کاشت کاروں کو زبردست نقصان ہواہے اورکاشت کارمعاشی طورپربہت متاثرہوئے ہیں نہری پانی کی غیرمنصفانہ تقسیم کے باعث ضلع بدین کی زراعت تباہ ہوکررہ گئی ہے اورکھاتے پیتے گھرانے فاقوں کا شکارہوگئے ہیں اس لیے ضلع کے کاشت کارتھانوں اورعدالتوں میں آبپاشی افسران کے خلاف ہرجانے اورازالے کے مقدمات درج کرائیں گے اگرپولیس نے آبپاشی افسران کے خلاف مقدمات درج کرنے سے انکارکیا تو عدالت میں سیکشن بائیس اے کی درخواست دے کر عدالتوں کے ذریعے مقدمات درج کرائے جائیں گے جبکہ سندھ ہائی کورٹ اوردیگرعدالتوں میں آبپاشی افسران کے خلاف ہرجانے اورازالے کی پیٹیشنیں بھی داخل کرائی جائیں گی انہوں نے کہا کہ ضلع بدین کی مختلف آبپاشی سب ڈویزنوں کے کاشت کارمجھ سے رابطے میں ہیں اور ان کاشت کاروں نے بھی آبپاشی افسران کے خلاف مقدمات درج کرانے کا فیصلہ کیا ہے اورآئیندہ چندروزمیں مقدمات کے اندراج کے لیے تھانوں میں درخواستیں جمع کرادی جائیں گی اورسندھ ہائی کورٹ اوردیگرعدالتوں میں سول سوٹ داخل کرائی جائیں گی جس کے لیے وکلا سے صلاح ومشورے جاری ہیں انہوں نے کہا کہ ان کے پاس آبپاشی افسران پرہرجانے اورنقصان کے ازالے کے مقدمات درج کرانے کے سواکوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ آبپاشی افسران ہی کاشت کاروں کونقصان پہنچانے کے اصل ذمہ دارہیں انہوں نے کہا کہ اس سال دریائے سندھ میں کوٹری بیراج کے مقام پرمحکمہ آبپاشی کے اپنے ریکارڈ کے مطابق پانی کی اتنی قلت پیدانہیں ہوئی جتنی کوٹری بیراج کی کینالوں سے نکلنے والی شاخوں میں پیدا ہوئی ہے اس کا واحد سبب پانی کی تقسیم میں ہونے والی بے ضابطگیاں اوربے قاعدگیاں ہیں ان بے ضابطگیوں اوربے قاعدگیوں کے ذمہ دارآبپاشی افسران ہیں اس لیے مقدمات بھی ان ذمہ دارافسران جن میں مختلف سب ڈویزنوں کے ایس ڈی اوز.ایکسیئن اورڈائریکٹر شامل ہیں کے خلاف درج کرائے جائیں گے .