ایران کا افغان طالبان کے ساتھ انٹیلی جنس رابطوں کا اعتراف

ایران کے کچھ علاقے ان افغان علاقوں سے ملتے ہیں جو طالبان کے کنٹرول میں ہیں،جواد ظریف بیان افغانستان کے اندرونی امور میں ایران کی مداخلت ، دونوں ملکوں کے درمیان رشتے کمزور ہوں گے،افغان ردعمل

جمعہ جنوری 18:18

کابل/نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جنوری2019ء) ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہاہے کہ ہمارے طالبان کے ساتھ انٹیلی جنس رابطے موجود ہیں کیوں کہ ہمارے کچھ سرحدی علاقے ان افغان علاقوں سے ملتے ہیں جو طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔دوسری جانب افغانستان نے ایرانی وزیر خارجہ کے بیان پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ جواد ظریف کا بیان کو افغانستان کے اندرونی امور میں ایران کی واضح مداخلت کا ثبوت ہے ،دو ریاستوں کے درمیان تعلقات سے ہٹ کر طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے رابطے دونوں ملکوں کے درمیان رشتوں کو کمزور کریں گے،غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق بھارت کے دورے کے دوران دیئے گئے انٹرویو میں ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ مستقبل کے افغانستان میں طالبان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا البتہ اس حوالے سے فیصلہ افغان عوام کو کرنا ہے۔

(جاری ہے)

ہمسایہ ملکوں میں سے کوئی بھی نہیں چاہتا کہ طالبان کو بالادستی حاصل ہو کیونکہ یہ خطے کے مفاد میں نہیں ہے، ہمارا بھی یہی خیال ہے کہ طالبان کا یہ کردار انتہائی اہم نہیں ہونا چاہیے۔جواد ظریف کا کہنا تھا کہ ہمارے طالبان کے ساتھ انٹیلی جنس رابطے موجود ہیں کیوں کہ ایران کے کچھ سرحدی علاقے ان افغان سرحدی علاقوں سے ملتے ہیں جو طالبان کے کنٹرول میں ہیں، طالبان کے زیر کنٹرول افغان ایران سرحدی علاقے میں سلامتی کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب افغانستان نے ایرانی وزیر خارجہ کے بیان پر سخت رد عمل ظاہر کیا ۔ افغان وزارت خارجہ نے جواد ظریف کے بیان کو افغانستان کے اندرونی امور میں ایران کی واضح مداخلت قرار دیا ۔ افغانستان کے نائب وزیر خارجہ ادریس زمان نے ٹویٹ میں کہا کہ 2 ریاستوں کے درمیان تعلقات سے ہٹ کر طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے رابطے دونوں ملکوں کے درمیان رشتوں کو کمزور کریں گے۔