ذبیحہ کے معاملے پر نئے قانون کے خلاف یورپ میں مسلمان اور یہودی ایک ہوگئے

یورپی قانون کے مطابق جانوروں کو ذبح کرنے سے پہلے بیسدھ کیا جانا چاہیے تاکہ انھیں کوئی دباؤ یا تکلیف محسوس نہ ہو

جمعہ جنوری 18:20

برسلز(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جنوری2019ء) یورپ میں مسلمانوں اور یہودیوں میں زیادہ اتفاق نہیں پایا جاتا لیکن حال ہی میں وہ ایسے قوانین کے خلاف اکھٹے ہوئے ہیں جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ قوانین ان کے مذہبی آزادی پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق حالیہ تنازع رواں برس کے آغاز میں کو بیلجیئم میں اس قانون کے نفاذ کے بعد سامنے آیا جس نے جانوروں کو روایتی طریقے سے ذبح کرنے پر اثر ڈالا جو کہ کوشر اور حلال گوشت کے لیے ضروری ہے۔

(جاری ہے)

جانورں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے بہت عرصے سے اس قانون کے لیے آواز اٹھا رہے تھے لیکن یہودی اور مسلمان رہنماؤں نے اس قانون کو لبرل ایجنڈے کے بھیس میں یہودیوں اور مسلمانوں کے خلاف کوشش قرار دیا تھا۔ایڈولف ہٹلر نے سنہ 1933 میں بھی نازی جرمنی میں جانوروں کو (سٹن) یعنی بیسدھ کیے بغیر ذبح کرنے پر پابندی عائد کرنے کے بعد اس بحث کا آغاز کیا تھا۔یورپی قانون کے مطابق جانوروں کو ذبح کرنے سے پہلے بیسدھ کیا جانا چاہیے تاکہ انھیں کوئی دباؤ یا تکلیف محسوس نہ ہو۔جانوروں کی فلاح کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا تھا کہ اس عمل سے جانوروں کو موت کے وقت غیر ضروری اذیت سے گزرنا پڑتا ہے لیکن مذہبی رہنما زور دیتے ہیں کہ یہ طریقہ کار غیر تکلیف دہ ہے۔

متعلقہ عنوان :