سپریم کورٹ:منرل واٹراورمشروب کمپنیزکوسالانہ10ہزاردرخت لگانےکا حکم

منرل واٹراورمشروب کمپنیز شجرکاری مہم کو بھی فروغ دیں، فیصلے پر عملدرآمد کیلئے جسٹس عمرعطاء بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اورجسٹس فیصل عرب پرمشتمل3 رکنی بنچ بھی تشکیل دے دیا

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ جنوری 18:05

سپریم کورٹ:منرل واٹراورمشروب کمپنیزکوسالانہ10ہزاردرخت لگانےکا حکم
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 جنوری2019ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے منرل واٹر اور مشروب کمپنیز کوشجرکاری مہم کوفروغ دینے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں حکم دیا کہ منرل واٹر اورمشروب کمپنیز سالانہ 10ہزار درخت لگائیں گی، فیصلے پر عملدرآمد کیلئے جسٹس عمرعطاء بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اورجسٹس فیصل عرب پرمشتمل3 رکنی بنچ بھی تشکیل دے دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں زیرزمین پانی کے استعمال سے متعلق کیس کی سماعت کی۔عدالت نے قیمت ادا کرنے سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔ چیف جسٹس نے خودفیصلہ تحریرکیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق زیرزمین پانی کے استعمال پر ایک روپیہ فی لیٹر قیمت عائد کی جائے۔

(جاری ہے)

ٹیکسٹائل، گارمنٹس اور شوگرملز سے پانی کی قیمت وصول کی جائے۔

ریفائرنیز اور دیگر فیکٹریاں بھی قیمت ادا کریں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں حکم دیا کہ زیرزمین پانی استعمال کر نے کیلئے ایک روپیہ فی لیٹر قیمت مقرر کی جائے۔ حاصل ہونے والی رقم دیا میربھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کے فنڈز میں جمع کی جائے۔عدالت نے کہا کہ پانی کی قیمت کا بوجھ صارفین پر نہیں پڑنا چاہیے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے منرل واٹر اورمشروب کمپنیز کوشجرکاری مہم کوفروغ دینے کا حکم بھی دیا ہے۔

منرل واٹر اورمشروب کمپنیز کوسالانہ 10ہزار درخت لگانے کی ہدایت کردی۔ فیصلے پر عملدرآمد کیلئے تین رکنی بنچ بھی تشکیل دے دیا ہے۔ بنچ میں جسٹس عمرعطاء بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اورجسٹس فیصل عرب شامل ہیں۔ مزید برآں آج جمعہ کوچیف جسٹس کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی اس موقع پرایڈیشنل اٹارنی جنرل نے پیش ہوکرعدالت کوبتایاکہ عدالتی حکم پر متعلقہ کمیٹی نے ڈیم کی تعمیرکے بارے میں میٹنگ کرلی ہے جبکہ سیکرٹری پلاننگ نے عدالت کوآگاہ کیاکہ کمیٹی نے اپنی سفارشات ایکنک کو بھجوا دی ہیں اس کے ساتھ ہم نے سیکرٹری خزانہ سے بھی کہا ہے کہ ایکنک کا اجلاس جلد طلب کرلیا جائے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے نئی گج ڈیم کی تعمیر سے متعلق مکمل شیڈول فراہم کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح یہ معاملہ ایکنک میں پھنس جائے گا جبکہ میری خواہش تھی کہ یہ معاملہ میری موجودگی میں ہو جاتا لیکن کیا کیا جائے کہ بہت ساری خواہشات صرف خواہشات ہی رہ جاتی ہیں ۔بعدازاںعدالت نے آئندہ سماعت پر وزیر خزانہ ، وزیر توانائی اور سیکرٹری کابینہ ڈویژن کو طلب کرلیا اورہدایت کی کہ عدالت میں کمیٹی کی کارروائی کا ریکارڈ بھی جمع کرایا جائے،حکومت واضح کوطورپر کوئی تاریخ دے کر بتائے کب تک یہ سارا عمل مکمل ہو گا بعدازاں مزید سماعت ملتوی کردی گئی۔