منفی 52 ڈگری سیلسیس کے موسم میں دنیا کی سرد ترین میراتھن

Ameen Akbar امین اکبر جمعہ جنوری 23:55

منفی 52 ڈگری سیلسیس  کے موسم میں دنیا کی سرد ترین میراتھن

16 بہادر دوڑنے والوں نے روسی گاؤں اويمياكون ، جسے دنیا کا سرد قطب کہا جاتا ہے، کے مقام پر تاریخ کی باضابطہ سرد ترین دوڑ میں حصہ لیا۔
اويمياكون دنیا کا سرد ترین مستقل آباد مقام ہے۔ اس کا درجہ حرارت  سردیوں میں مستقل طور پر 50 ڈگری سیلسیس سے نیچے رہتا ہے۔ یہ مقام اتنا سرد ہے کہ اگر کوئی انسان چہرہ نہ ڈھکے تو سیکنڈوں میں سرما زدگی (فراسٹ بائٹ) کا شکار ہوجاتا ہے۔

اس مقام پر بعض دفعہ تو پارہ بھی تھرما میٹر کے اندر ہی جم جاتا ہے۔
 اويمياكون ،جسے بمشکل رہنے کے قابل جگہ قرار دیا جا سکتا ہے، میں دنیا کی سرد ترین دوڑ کا اہتمام کیا گیا۔  اس سال سے شروع ہونے والی  مشکل دوڑ وں میں 16 افراد نے حصہ لیا۔
5 جنوری کو 21 سے 71 سال کے تربیت یافتہ 16 افراد نے وسطی یاقوتیا کے صنوبری جنگل میں   5، 10، 20، 30 اور 42کلومیٹر کی  دوڑوں میں حصہ لیا۔

(جاری ہے)

جس وقت دوڑ شروع ہوئی اس وقت درجہ حرارت تقریباً ناقابل برداشت یعنی منفی 52 ڈگری سیلسیس تھا۔ جس وقت پہلا اور اکلوتا کھلاڑی 39 کلومیٹر کے مقام پر پہنچا یہ منفی 48 ڈگری سیلسیس ہو چکا تھا۔
دوڑ میں شریک ایک کھلاڑی   سرگائیلانا نیوسٹرویوا نے بتایا کہ وہ دنیا کی سرد ترین  دوڑ دیکھنے کے لیے  آسٹریلیا، تائیوان، جاپان اور بھارت سے آئے ہوئے سیاحوں  کی حیرت کو دیکھ سکتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ انتہائی سرد موسم میں منعقد ہونے والی  پہلی دوڑ تھی۔ اگلے سال پھر سے اس کا انعقاد کیا جائےگا، جس میں ساری دنیا کے کھلاڑیوں کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ اس دوڑ کے چیمپئن کھلاڑی ییگور ابراموف نے کہا  کہ وہ منفی 45 ڈگری اور اس سے بھی سرد موسم کی دوڑ کو مقبول کرنا چاہتے ہیں۔
اس دوڑ کا انعقاد ایک ٹور ایجنسی کے سربراہ الیگزینڈر کریلوف نے کیا تھا۔ ان کا ارادہ ہے کہ اگلے سال اسے پھر مزید بہادر کھلاڑیوں کے ساتھ  منعقد کریں۔

متعلقہ عنوان :