ڈاکٹر شاہد مسعود کے خلاف احکامات دینے والا کون ہے؟

ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا ہے کہ مجھے ایف آئی اے کے لوگ آ کر ملتے تھے اور کہتے تھے اسحاق ڈار سمیت اِن اِن لوگوں پر ہلکا ہاتھ رکھیں۔ معروف صحافی صدیقی جان کا دعویٰ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان ہفتہ جنوری 11:50

ڈاکٹر شاہد مسعود کے خلاف احکامات دینے والا کون ہے؟
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12 جنوری 2019ء) : سابق ایم ڈی پی ٹی وی شاہد مسعود پرپاکستان ٹیلی ویژن میں 3 کروڑ روپے سے زائد کی کرپشن کا الزام ہے۔اور اس حوالے سے انہیں عدالت میں پیش کئیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔دو روز قبل ان کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں انکو سخت حراست میں ہتھکڑیاں پہنا کر پیش کیا جارہا ہے۔انکو اس حال میں پیش کرنے پر سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہو گیا اور انکے ناقدین نے بھی اس بات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

تاہم یہاں پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کے خلاف یہ امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟۔ اسی حوالے سے کورٹ رپورٹر اور معروف صحافی صدیقی جان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کے مطابق انہیں ایف آئی اے کے لوگ ملتے تھے اور کہتے تھے کہ آپ اسحاق ڈار سمیت اِن اِن لوگوں پر ہلکا ہاتھ رکھیں۔

(جاری ہے)

شاہد مسعود نے مجھے مزید بتایا کہ پیشی کے موقع پر مجھے جس طرح کے کرمنل لوگوں کے ساتھ لایا جاتا ہے تو وہ راتسے میں ہی منصوبہ بندی کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم یہ یہ کریں گے جس میں خوفزدہ ہو جاتا ہوں۔

اس کے علاوہ جج کی غیر حاضری پر بھی ڈاکٹر شاہد مسعود کو پیشی کے لیے لایا گیا اور پوری کچہری میں پھرایا گیا اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کے خلاف کوئی احکامات دے رہا ہے کہ آپ نے یہ یہ کرنا ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ برس نومبر میں پی ٹی وی کرپشن کیس میں عدالت نے ڈاکٹر شاہد مسعود کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔ سابق ایم ڈی پی ٹی وی شاہد مسعود کو ڈیوٹی جج محمد انعام اللہ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت نے ایف آئی اے کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی اور ڈاکٹر شاہد مسعود کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔ 23 نومبر کو پی ٹی وی کرپشن کیس میں سابق ایم ڈی پی ٹی وی ڈاکٹر شاہد مسعود کی درخواست ضمانت مسترد ہونے پر انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت کی جانب سے درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد اسلام آباد پولیس نے سابق ایم ڈی پی ٹی وی ڈاکٹر شاہد مسعود کو عدالت سے گرفتار کیا گیا تھا۔

جس کے بعد دسمبر میں اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود کو صحافی سے بدتمیزی کرنے اور موبائل چھیننے کے کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ حفیظ احمد کے روبرو پیش کیا گیا جہاں عدالت نے اینکرپرسن ڈاکٹر شاہد مسعود کو جسمانی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا۔اس کے بعد سے کئی مرتبہ ڈاکٹر شاہد مسعود کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیشی کے لیے لایا جاتا رہا ہے۔