آسیہ بی بی کیس کے بعد احتجاج سے متاثرہ لوگوں کے لیے اہم خبر

عدالت نے آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف احتجاج میں نقصان اٹھانے والوں کو ایک ماہ میں ادائیگی کا حکم جاری کر دیا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان ہفتہ جنوری 12:31

آسیہ بی بی کیس کے بعد احتجاج سے متاثرہ لوگوں کے لیے اہم خبر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جنوری2019ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو حکم دیا ہے کہ آسیہ مسیح کی رہائی پر احتجاج کے دوران میں جن لوگوں کا مالی نقصان ہوا ہے انہیں ایک ماہ کے دروان ادائیگی کی جائے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ کی لاہور رجسٹری میں ہفتے کے روز چیف جسٹس آف پاکستان میاں نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے از خود نوٹس پر سماعت کی۔

ایڈوکیٹ جنرل پنجاب اور دیگر فریقین بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ نقصان کا تخمینہ 262 ملین لگایا ہے۔کابینہ کے تخمینہ کی منظوری دے دی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ رپورٹیں تو دے دی گئیں ہیں۔متاثرین کو معاوضہ کب ملے گا؟۔بنچ کے سربراہ نے ریمارکس دئیے کہ ڈھائی ماہ گزر گئے ہیں لیکن ابھی تک ادائیگی کا مکمل پلان نہیں دیا گیا اگر عدالت حکم نہ دیتی تو یہ پلان بھی نہ آتا۔

(جاری ہے)

بنچ کے رکن جسٹس اعجاز الحسن نے استفسار کیا کیا کہ ادائیگی کے لیے کوئی پلان بھی مرتب کیا ہے یا سب کاغذی کاروارئی ہے؟،سیکشن آفیسر محکمہ داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ رواں ماہ میں ادائیگیاں کر دیں گے۔عدالت نے حکم دیا کہ ایک ماہ میں مکمل ادائیگیاں کر کے عمل در آمد رپورٹ عدالت میں جمع کروائیں۔یاد رہے کہ آسیہ بی بی گذشتہ 8 سال سے سینٹرل جیل ملتان میں قید تھیں۔

انہیں توہین رسالت کے کیس میں پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔جس کو لاہور ہائیکورٹ نے برقرار رکھا۔ تاہم 31 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی پر لگنے والے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔آسیہ بی بی کے خلاف کسی قسم کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا تھا، اسی باعث ان کی پھانسی کی سزا ختم کرتے ہوئے انہیں رہا بھی کرنے کا حکم جاری کیا گیا ۔

اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے مظاہرے کیے گئے۔ ملک کے بڑے شہروں میں حالات کئی روز تک کشیدہ رہے۔ تاہم بعد ازاں حکومت اور مظاہرین میں معاہدہ طے پا گیا۔ 5 نکاتی معاہدے کے بعد حکومت اور مظاہرین میں اتفاق پایا گیا ہے کہ حکومت عدالتی فیصلے پر نظر ثانی اپیل میں حائل نہیں ہو گی۔آسیہ مسیح کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ مظاہروں میں ہونے والی شہادتوں پر قانونی کاروائی کی جائے گی۔معاہدے میں طے پایا ہے کہ گرفتار کئیے جانے والے کارکنان کو رہا کیا جائے گا۔تحریک لبیک کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اس سارے واقعے میں اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو تحریک کے قائدین اس پر معذرت خواہ ہیں۔