صحت خرابی کا بہانہ این آر او لینے کی کوشش ،

وزیر اعظم سے کہوں گا اپنا ایک ممبر نکال کر مجھے پبلک اکائونٹس کمیٹی میں شامل کیا جائے‘ شیخ رشید آصف زرداری اور نوازشریف کا کوئی مستقبل نہیں ، 2019ء پاکستان کی ترقی کا سال ہے،عمران خان سے تعلقات پر فخر ہے ٹرینوں میں کرایوں کی بھی 3کیٹگریز بنانے جا رہے ہیں،وزیر اعلی پنجاب کا مشکور ہوں جنہوں نے نالہ لئی کا مسئلہ کر دیا ہے کوشش کر رہے ہیں اپنی شرئط پر آئی ایم ایف کے پاس جائیں،عوام پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالیں گے‘ پریس کانفرنس، پی اینڈ ڈی کے دفتر میںگفتگو

ہفتہ جنوری 19:29

صحت خرابی کا بہانہ این آر او لینے کی کوشش ،
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جنوری2019ء) وفاقی وزیر ریلویز شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ صحت خرابی کا بہانہ این آر او لینے کی کوشش ہے، شہباز شریف کا مقابلہ کرنے کیلئے مجھے پبلک اکائونٹس کمیٹی میں شامل کیا جائے،آصف زرداری اور نوازشریف کا کوئی مستقبل نہیں ، مریم نواز بیٹی کی طرح ہے ان کے خلاف کبھی منفی بات نہیں کی،2019ء پاکستان کی ترقی کا سال ہے،عمران خان سے تعلقات ہیں جس پر مجھے فخر ہے، میں ایک علیحدہ سیاسی جماعت کی نمائندگی کرتا ہوں اور پی ٹی آئی کوجوابدہ نہیں،پہلے 15 ٹرینوں کا کہا تھا لیکن رواں سال 20نئی ٹرینیں چلائیں گے ،ٹرینوں میں کرایوں کی بھی 3کیٹگریز بنانے جا رہے ہیں،وزیر اعلی پنجاب کا مشکور ہوں جنہوں نے نالہ لئی کا مسئلہ کر دیا ہے اور اس کے لئے کمیٹی بھی بنا دی گئی ہے ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریلوے ہیڈ کوارٹر لاہور میں پریس کانفرنس اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے دفتر کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے کرتے ہوئے کیا ۔ شیخ رشید نے کہا کہ ہم وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو دعوت دے رہے ہیں کہ وہ دونئی ٹرینوں کامارچ میں افتتاح کریں اور لاہور ریلوے اسٹیشن کو بہتر بنایا جارہا ہے اس کے حوالے سے یہاں دورہ کریں۔

ہم نے ٹرینوں میں کھانے اور بیڈنگ کے حوالے سے انکوائری کمیٹی چیئرمین ریلویز کی صدارت میں تشکیل دے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہم نے یہ فیصلہ بھی کیاہے کہ نئی ٹرینوں میں کھانے اور بستر کی کمپلیمنٹری سروس دیں گے۔اس کے ساتھ ساتھ جو صفائی کی شکایات ہمیں موصول ہوئی ہیں ان کا ہم نے سنجیدگی سے نوٹس لیاہے تمام ڈی ایس صاحبان ٹرینوں میں صفائی اور مینٹینینس کے ذمہ دار ہوں گے۔

ایک مہینے کے اندر اندر تمام ڈی ایس صاحبان کو بڑے ریلوے اسٹیشنوں پر فارمیسی سٹورز بنانے کی ہدایت کی ہے جو 24 گھنٹے کھلے رہا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ روہڑی ریلوے اسٹیشن پر ہم نے نیا ریلوے اسٹیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں 100 کمرشل دکانیں بھی تیار کی جائیں گی اس حوالے سے ریلوے کا سات افسران پرمشتمل انویسمنٹ بورڈ جس میں چیئرمین، جی ایم اور ایڈیشنل جنرل منیجرز شامل ہیں وہ اس کا فیصلہ کریں گے اس کو کیا شکل دینی ہے یہ شاپنگ مال ہوگا اور اس کے اوپر ہم ریسٹورینٹ بھی بنائیں گے کیونکہ سب سے زیادہ گاڑیاں روہڑی ریلوے اسٹیشن پر رکتی ہیں جو اس وقت بہت بری حالت میں ہے۔

اس کے سا تھ ساتھ ہم ایسا نیا پلیٹ فارم اور نیا اسٹیشن بنانے جارہے ہیں جوسندھی ثقافت کا آئینہ دار ہوگا۔ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا کہ ایک ہفتے میں بغیر ٹکٹ سفر کرنے والوں سے تین کروڑ روپے وصولی ہوئی ہے ہم نے پولیس کو بھی آج خودمختار ریڈ کے اختیارات دے دیئے ہیں جو اگلے پندرہ دن میں ریلوے اسٹیشنوں پر سفرکرنے والے مسافروں سے ٹکٹیں چیک کریں گے۔

تمام ایس ٹیز اور ٹکٹ کللٹر پر چیک رکھیں گے اور ہمارے افسران موقع پر ان کو کوتاہی برتنے پر سزائیں دیں گے جس پر انہیں اپیل کا حق بھی ہوگا۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ ہماری تمام ٹرینیں کامیابی سے چل رہی ہیں اس پر ہم لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ریلوے پر اعتماد کیاہم سوچ رہے ہیں کہ ٹکٹوں پرگفٹ سکیم شروع کریں کیونکہ ابھی ہمارے پاس ٹکٹوں کی گنجائش نہیں ہے۔

ہماری نئی پسنجر کوچز آجائیں تو زیادہ سفر کرنے والوں کے لیے گفٹ سکیم بھی متعارف کروائیں گے۔ہم نے اپنے ریزرویشن آفس جو 24گھنٹے کے لیے کھلے رکھے ہیں اور یکم دسمبر سے 30 دسمبر تک ایک مہینے میں رات 9 سے صبح آٹھ بجے تک 41 ہزار ٹکٹ اضافی فروخت ہوئے ہیں۔ میں ایک دفعہ پھر عوام کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ریلوے پر اعتماد کرتے ہوئے ریلوے کے سفر کو ترجیح دی۔

انہوںنے بتایا کہ مدثرشاہ زیدی نامی شخص نے انجنوں میں ٹریکنگ سسٹم لگانے کے لیے ہمیں بالکل مفت دیئے ہیں وہ آج سے انجنوں میں لگنا شروع ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ وی آئی پی ٹرین شروع کرنے جا رہے ہیں جس کے مزید کرائے بڑھائیں گے، وی آئی پی ٹرین میں فائیو اسٹار سہولتیں فراہم کریں گے۔ ٹرینوں میں کرایوں کی 3کیٹگریز بنانے جا رہے ہیں، کسی کو مجبور نہیں کریں گے ہر شخص اپنی کیٹگری خود منتخب کرے گا۔

ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ کارکنوں نے نواز شریف کے لئے احتجاج کیا ورنہ پاکستان کی تاریخ میں تین بار وزیر اعظم رہنے والے شخص کے لئے کوئی نہیں نکلا تھا ۔ اللہ انہیں صحت تندرستی دے لیکن صحت یابی کا بہانہ این آر او لینے کی کوشش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دودھ کی رکھوالی پر بلے کو نہیں بٹھایاجاسکتا، شہباز شریف کو چیئرمین پی اے سی کی سربراہی دینے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کے فیصلے پر قائم ہوں ،پیر کو اس سلسلے میں وزیر اعظم سے ملاقات کروں گا کہ مجھے پبلک اکائونٹس کمیٹی میں شامل کیا جائے ، اس کے لئے پی ٹی آئی اپنے ایک رکن کو واپس لے تاکہ میں شہباز شریف کا مقابلہ کر سکوں ،پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کی سربراہی بھی مجھے سونپی جائے، میں مسلم لیگ (ن) کے معاملات کا آڈٹ کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف میرے اعصاب پر سوار نہیں لیکن جس شخص پر ماڈل ٹائون کے کیسز ہوں،56 کمپنیز ،آشیانہ سمیت ایک سواکیس کیسز ہوں وہ کیسے دوسروں کا احتساب کرسکتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ عمران خان سے تعلقات ہیں جس پر مجھے فخر ہے، میں ایک علیحدہ سیاسی جماعت کی نمائندگی کرتا ہوں، پی ٹی آئی کوجوابدہ نہیں،2019ء پاکستان کی ترقی کا سال ہے اور عمران خان کی قیادت میں ملک ترقی کرے گا ۔

انہوں نے کہاکہ آصف زرداری اور نوازشریف کا کوئی مستقبل نہیں ، مجھے ڈر ہے کہیں بلاول ان کی زد میں نہ آ جائے۔ مریم نواز بیٹی کی طرح ہے، ان کے خلاف کبھی منفی بات نہیں کی،اپوزیشن جو کہہ رہی ہے وہ کہتی رہے گی ۔پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے دفتر کے دورہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب کی مہربانی ہے کہ انہوں ن ے نالہ لئی کا مسئلہ حل کردیا ہے، اب ریلوے کی میٹنگ کے ساتھ ساتھ یہاں بھی آیا کروں گا۔

نالہ لئی کا منصوبہ 16ارب کا تھا جو تاخیر کی وجہ سے 40ارب تک پہنچ گیا ہے۔نالہ لئی کے معاملے پر کمیٹی بن گئی ہے جس کا میں فوکل پرسن ہوں ۔ انہوںنے کہا کہ منی بجٹ کے حوالے سے وزیر خزانہ اسد عمر سے بات ہوئی ہے،آئی ایم ایف کے پاس جانا ہوگا لیکن بغیر کسی دباو کے آئی ایم کے پاس جائیں گے،کوشش کر رہے ہیں کہ اپنی شرئط پر آئی ایم ایف کے پاس جائیں،عوام پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فوڈ اتھارٹی کے حوالے سے بھی پنجاب حکومت سے بات ہوئی ہے، ملاوٹ کرنے والوں کو سزائے موت دیدیںلیکن غریبوں کی دکانیں زیادہ دیر کے لئے بند نہیں ہونی چاہئیں۔