ڈیرہ غازی خان میں پرنسپل مسرت بیگم کی نرسنگ سکول میں دہشت گردی

پرنسپل مسرت بیگم اور اسسٹنٹ نرسنگ انسٹرکٹر کوثر پروین نے طالبات کو گارڈز سے پٹوادیا

muhammad ali محمد علی ہفتہ جنوری 19:30

ڈیرہ غازی خان میں پرنسپل مسرت بیگم کی نرسنگ سکول میں دہشت گردی
ڈی جی خان (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 جنوری2019ء) ڈی جی خان میں پرنسپل مسرت بیگم کی نرسنگ سکول میں دہشت گردی۔پرنسپل مسرت بیگم اور اسسٹنٹ نرسنگ انسٹرکٹر کوثر پروین نے طالبات کو گارڈز سے پٹوادیا ۔ ایم ایس ڈاکٹر شاہد سلیم کے خلاف احتجاج کرنے والی معصوم طالبات پرنسپل مسرت بیگم کے عتاب کا شکار۔ ہوسٹل میں طالبات کو محبوس کرکے ایم ایس کے حق میں تحریری بیان کے حصول کے لیے قیامت صغر ی بر پا کر دی گئی۔

انکار پر محبوس کرکے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنوایا گیا ۔پرنسپل طالبات پر تشدد کی ویڈیو بھی بناتی رہی ۔تین روز قبل طالبات نے ایم ایس کے ناروا رویے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔نرسنگ سکول اور ہاسٹل کو تالے لگا کر طالبات کو محبوس کر لیا ۔سکول کو تالے لگا کر تدریسی سٹاف کو سکول آنے سے روکدیا۔

(جاری ہے)

پرنسپل ڈی جی خان غازی میڈیکل کالج ڈاکٹر محمد آصف قریشی نے آکر محبوس طالبات کو رہائی دلائی۔

طالبات پرنسپل ڈاکٹر آصف قریشی کے سامنے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں۔طالبات پرنسپل ڈاکٹر آصف قریشی کے سامنے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں ۔ تفصیل کے مطابق نرسنگ سکول کی طالبات نے چار روز قبل ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ غازی خان کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ ڈاکٹر شاہد سلیم نے کے ناروا سلوک اور بازاری زبان استعمال کے خلاف ایم ایس دفتر کے سامنے احتجاج کیا تھا۔ جس کے ری ایکشن میں ایم ایس کو بچانے کے لیے ڈاکٹر شاہد سلیم کے حواری انہیں بچانے کے لیے سرگرم ہو گئے۔

ہیڈ نرس مسرت بیگم جوکہ اِس وقت غیر قانونی طو ر پر پرنسپل نرسنگ سکول بنی ہوئی ہے اُس کو ایم ایس ڈاکٹر شاہد نے ٹاسک دیا کہ اِس سے قبل کوئی اتھارٹی اُس کے خلاف انکوئری شروع کرئے اور واقعہ کا نوٹس لے ۔ مظاہرہ کرنے والی طالبات کو نکیل ڈالی جائے اور اُن طالبات سے اِس واقعہ کو بے اثر کرنے کے لیے ایک تحریری بیان لکھوایا جائے۔ مورخہ 11جنوری 2019کی رات کو بھی مسرت بیگم نے مظاہرہ کرنے والی طالبات کو نرسنگ ہوسٹل کے کمروں میں محبوس کر دیا اور اُن کے باہر نکلنے پر مکمل پابندی عائد کردی۔

انہیں ڈرایا اور دھمکیاں دیں کہ اگر اُن نے ایم ایس کے حق میں اپنا تحریری بیان نہ دیا تو انہیں حوالے پولیس کر دیا جائے گا۔ اُن کے خلاف احتجاج کرنے کا مقدمہ درج کر جائے گا ۔انہیں فیل کر ا دیا جائے گا۔ حتی کہ معصوم طالبات کے گھروں میں فون کرکے والدین کو دھمکیاں دی گئیں کہ اُن کی بچیوں نے اگر ایم ایس کے حق میں بیان نہ دیا تو انہیں سکول سے نکال دیا جائے گا۔

معصوم طالبا ت کو ذہنی تشدد کا شکا ر کیاگیا۔ جس پر طالبات کے والدین نے ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازیخان محمد اقبال مظہر سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور اُن سے رحم کی اپیل کی۔ ڈپٹی کمشنر نے فوری طورپر اسٹنٹ کمشنر صدر محمد شاہد ملک کو انکوئری آفیسر تعینات کرتے ہوئے لیڈ ی پولیس کے ہمراہ نرسنگ ہوسٹل بھیجا اور محبوس شدہ طالبات کو تحفظ فراہم کیا۔

رات کے تقریبا 11بجے جب ڈی سی ٹیم نرسنگ ہوسٹل پہنچی تو اُ س وقت ہیڈ نرس مسرت بیگم جوکہ غیر قانونی طور پرنسپل تعینات ہے اُس نے اور اسسٹنٹ نرسنگ انسٹرکٹر کوثرپروین وہاں موجود تھیں جنہوں نے طالبا ت کو زیر دباﺅ رکھا ہوا تھا۔ مسلسل ذہنی اذیت دے رہی تھیں۔ طالبات نے پولیس کی موجودگی میں تمام صورت حال سے انکوئری آفیسر کو آگاہ کیا کہ کس طرح انہیں محبوس کر دیا گیا ہے اور سکول سے نکالا جا رہا ہے۔

اُن کے والدین کو رات کو ٹیلی فون کرکے پریشان کیا جا رہاہے۔ طالبات نے بتایا کہ ذہنی اذیت سے تنگ آکر ایک لڑکی خود کشی کرنے لگی تھی۔ ایم ایس کے کہنے پر مسرت بیگم اور کوثر پروین نے طالبات کا جینا حرام کر رکھا ہے انہیںتحفظ فراہم کیا جائے۔ انکوئری آفیسر اے سی شاہد ملک نے طالبا ت کو مکمل تحفظ فراہم کیا اور لیڈی کانسٹیبل کو رات بھر نرسنگ ہوسٹل میں رہنے کی ہدایات کیں۔

اُس رات پرنسپل کا منصوبہ ناکام ہو ا تو مورخہ 12جنوری 2019کو پرنسپل مسرت بیگم اور کوثر پروین نے ایک بار پھر طالبات کو زیر دباﺅ میں لانے کے لیے طالبات کو سکول اور ہاسٹل کے دروازے بند کرواکے گارڈز کے ذریعے نہ صرف انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنوایا۔بلکہ طالبات کے مطابق اس دوران پرنسپل اس ظالمانہ عمل کی ویڈیو بھی بناتی رہی۔پرنسپل نے سکول کے گیٹ اور ہاسٹل دونوں کے دروازے بند کروا دئیے۔

سکول کا تدریسی سٹاف بھی باہر گیٹ کھلنے کا منتظر رہا۔پرنسپل مسرت بیگم طالبات پر ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر شاہد سلیم کے حق میں بیان دیتے کے لیے دباو ڈالتی رہی اور انکار پر تشدد کا نشانہ بنوایا۔معاملے کے بارے میں پتہ چلنے پر پرنسپل غازی میڈیکل کالج ڈاکٹر آصف قریشی نے خود موقع پر پہنچ کر دروازے کھلوائے اور محبوس طالبات کو رہائی دلائی۔پرنسپل غازی میڈیکل کے سامنے اس ظلم کی داستان کو بیان کرتے ہوئے طالبات پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں۔معاملے کی نزاکت کے پیش نظر پرنسپل غازی میڈیکل کالج ڈاکٹر آصف قریشی نے نرسنگ سکول کو تین روز کےلیے بند کردینے کا حکم جاری کر دیا۔