کراچی، ای ای ڈی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل گریجویٹس ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں، عمران اسماعیل

یہاں سے نکلنے والے نوجوانوں نے ہرشعبہ میں اپنی صلاحیتوں کا لو ہا منوایا ، پاکستان کے سوفٹ امیج کو اجاگر کرنے میں طلباء و طالبات کلیدی کردارادا کرسکتے ہیں،گورنرسندھ

ہفتہ جنوری 22:55

کراچی، ای ای ڈی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل گریجویٹس ملک کا قیمتی اثاثہ ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جنوری2019ء) گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ این ای ڈی یونیورسٹی عالمی سطح پر تسلیم شدہ معتبر ادارہ ہے جس کی تاریخ نو دہائیوں پر محیط ہے، یہاں سے فارغ التحصیل گریجویٹس ملک کا فخر اور اثاثہ ہیں۔ گورنر سندھ نے کہا کہ این ای ڈی یونیورسٹی تحقیق اور اعلی تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنارہی ہے جس سے قومی ترقی اور معیشت پر براہ راست اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

یہ بات انہوں نے این ای ڈی یونیورسٹی کے 27 ویں کانووکیشن کے جلسہ تقسیم اسناد کی تقریب سے خطاب میں کہی۔انہوں نے کہاکہ این ای ڈی ، فیکلٹی اور مضبوط انتظامی ڈھانچے کی وجہ سے تحقیق کی کوششوں میں سب سے نمایاں ہے۔ گورنرسندھ نے کہا کہ جامعات میں تحقیق کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے، یہاں سے فارغ التحصیل نوجوانوں نے اپنی ذہانت اور صلاحیتوں سے ہر شعبہ میں اپنی کارکردگی کا لو ہا منوایا ہے، اعلی تعلیم کے بغیر کو ئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا اور اعلی تعلیم کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

(جاری ہے)

گورنر سندھ نے کہا کہ پاکستان کے سوفٹ امیج کو اجاگر کرنے میں طلبائ و طالبات کلیدی کردارادا کرسکتے ہیں۔ گورنر سندھ نے کہا کہ طالب علموں کے ساتھ اساتذہ اور والدین آج کے دن خصوصی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ این ای ڈی یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این ای ڈی کے زیرِ انتظام چار نیشنل سینٹرز ، سینٹر فار سائبر سکیورٹی، سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلجنس، سینٹر فار ڈیٹا انلیکٹس اور سینٹر فار ر بوٹکس ہیں جب کہ پانچویں نیشنل سینٹر فار نینو ٹیکنالوجی کا بھی آغاز ہونے جارہا ہے، یہ تمام سینٹرز طالب علموں کے لئے ریسرچ کے مواقع پیدا کررہے ہیں۔

بعد ازاں گورنر سندھ نے ڈاکٹریٹ، ماسٹرز اور بیچلرز کے کامیاب طالب علموں کو سند اور گولڈ میڈلز تقسیم کیے۔ کانووکیشن میں شریک 1885 طلبائ و طالبات کوبیچلرز اور ماسٹرز کی ڈگری جب کہ 4 اسکالرز کو پی ایچ ڈی کی ڈگریاں تفویض کی گئیں۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی موجود تھے۔#