ڈسٹرکٹ بار فیصل آباد میں وکلاگردی ،پولیس خاموش تماشائی بنی رہی

ڈسٹرکٹ بار کا انتخاب جیتنے والے وکلا کی شدید فائرنگ ،علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس ہفتہ جنوری 19:46

ڈسٹرکٹ بار فیصل آباد میں وکلاگردی ،پولیس خاموش تماشائی بنی رہی
فیصل آباد (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-12 جنوری 2018ء ) : ڈسٹرکٹ بار کا انتخاب جتنے والے وکلا سر عام فائرنگ کرتے رہے،پولیس نے وکلا گردی پر ایکشن لینے کی بجائے آنکھیں بند کرلیں۔شدید فائرنگ کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔تفصیلات کے مطابق 2007 میں عدلیہ کی بحالی کے لیے شروع ہونے والی وکلا تحریک نے عدلیہ بحالی کی جدوجہد کو کامیابی سے ہم کنار کیا۔

اس تحریک کے دوران وکلا نے عدلیہ کی بحالی کے لیے نہ صرف تحریک چلائی بلکہ حکومت کے مخالف اقدامات کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔اس موقع پر ملک بھر کی عوام میں وکلا کی اس تحریک کو خاصی پذیرائی ملی ،تاہم اس تحریک کے ختم ہو جانے کے بعد وکلاء کی جانب سے کچھ ایسے ناپسندیدہ اقدامات کئیے گئے جس میں مار دھاڑ جیسے واقعات بھی شامل تھے اور یوں وکلا گردی کی اصطلاح ایجاد ہوئی جو آج بھی چلتی آرہی ہے اور وکلا کی جانب سے اکثر ایسی حرکتیں سامنے آتی ہیں جن کو وکلا گردی کا نام دیا جا سکتا ہے۔

(جاری ہے)

آج بھی ایسا ہی واقعہ ڈسٹرکٹ بار فیصل آباد میں پیش آیا جہاں ڈسٹرکٹ بار کے انتخاب جیتنے والے وکلا کے حامیوں نے وکلا گردی کرتے ہوئے سر عام فائرنگ شروع کر دی اور خوب ہلڑ بازی طھی کی گئی۔فائرنگ کے باعث علاقے میں خوف ہ ہراس کی فضا پھیل گئی جبکہ اس موقع پر وہاں موجود پولیس نے بھی معاملے سے دور رہھے میں ہی عافیت جانی۔یوں پولیس خاموش تماشائی بنی رہی جبکہ وکلا کی جانب سے ہوائی فائرنگ کا بے دریغ استعمال کیا جاتا رہا۔واضح ہو کہ ڈسٹرکٹ بار فیصل آباد کے انتخاب میں مختار گھمن صدر اور شاہد منیر جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ہیں۔