بلاول کو دھرنے کی جگہ دینے کی پیشکش

بلاول اگر اسلام آباد پر چڑھائی کا شوق پورا کرنا چاہتے ہیں تو کر لیں، ہم انہیں دھرنے کے لیے جگہ دیں گے

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس ہفتہ جنوری 23:15

بلاول کو دھرنے کی جگہ دینے کی پیشکش
اسلام آباد (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-12 جنوری 2018ء ) : بلاول بھٹو کی اسلام آباد چڑھائی کی دھمکی پر حکومت نے دھرنے کی جگہ دینے کی پیشکش کردی۔سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو دو چار لوگ لے کر اسلام آباد پر چڑھائی کرنا چاہتے ہیں، تو شوق پورا کر لیں، ہم انھیں جگہ دیں گے.تفصیلات کے مطابق آج کوٹری میں جامشورو برج اور کوٹری فلائی اوور برج کے افتتاح کے موقع پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ حکومت نے گورنننس اور ڈلیوری کو ترجیح بنایا۔

ہم نے تھر کے لوگوں کو روزگار اور پورے سندھ میں مفت طبی سہولت دی۔بلاول بھٹو زر داری نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے حکومت تو حاصل کرلی لیکن عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے صرف اور صرف عوام کی خدمت کی ہے اور ہمیں عوام کی خدمت کرنے کی سزا دی جارہی ہے۔

(جاری ہے)

بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ سندھ کے لوگ پیپلزپارٹی سے محبت کرتے ہیں، پیپلزپارٹی کے جیالوں کو مت للکاریں۔

چیئر مین پی پی پی نے کہا کہ حکومت جتنا آگے جارہی ہے ملک اتنا ہی پیچھے جا رہا ہے، معیشت کا برا حال ہوگیا ہے، عوام مہنگائی سے تنگ ہیں، ملک میں غریبوں کے گھر کے چولہے ٹھنڈے ہورہے ہیں۔بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ جنہوں نے 50 لاکھ گھر دینے تھے انہوں نے لوگوں کے سر سے چھت تک چھین لی ہے۔انہوں نے کہا کہ منتخب حکومت کے 6 ماہ کے دوران بیرون ملک سے 10 ارب 72 کروڑ ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ حکومتی وزیر کہتے ہیں کہ مہنگائی کم ہوئی ہے جبکہ عوام 2 وقت کی روٹی کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں۔انہوں نے وفاقی حکومت پر الزام لگایا کہ انہوں نے سندھ کا پانی اور بجلی بند کردیا ہے۔بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ حکومت کو پگڑیاں اچھالنے کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔جعلی اکاؤنٹس کیس میں بلاول بھٹو زرداری کے والد آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے خلاف بنی جے آئی ٹی کی رپورٹ کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ ہم کسی جعلی جھوٹی جے آئی ٹی کو نہیں مانتے۔

انہوںنے کہاکہ پیپلز پارٹی انتقامی سیاست کا کڑا مقابلہ کرے گی۔بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ ، تحریک انصاف کو دھاندلی کرکے حکومت ملی ہے وہ ہم سے فری اینڈ فیئر الیکشن میں جیت نہیں سکتے، کام کا مقابلہ نہیں کرسکتے، خدمت میں مقابلہ نہیں کرسکتے، وفاق کا وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب، وزیاعلی سندھ مراد علی شاہ سے مقابلہ نہیں کر سکتے، اب سازش کے تحت ہمیں نکالناچاہتے ہیں، پہلے بھی ناکام ہوئے اب بھی ہوں گے۔

بلاول بھٹو زر داری نے وزیر اعظم پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں نے الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ خان صاحب اصولوں کی سیاست سے پہلے سیاست کے اصول تو سیکھو، سیاست میں عوام کی مرضی چلتی ہے اور میچ میں امپائر کی انگلی۔بلاول بھٹو زر داری نے کہا کہ آپ نے حکومت تو بنا لی لیکن قوم کا وقار قائم نہیں رکھ سکے،آپ نے آج اصولوں کی سیاست کا دھوکہ دے کر ووٹ تو چوری کر لئے لیکن آج سیاست کے اصولوں کے آگے ہار گئے، آپ اور آپ کے لاڈلوں نے حکومتی عہدے تو حاصل کر لئے لیکن ان کی پاسداری نہ کر سکے، جتنے وعدے کئے سب جھوٹ نکلے، دعوے فراڈ نکلے، قسمیں ہوا میں اڑ گئیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین نے وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ آپ کی آنکھوں پر غرور کی پٹی ہے اور دماغ طاقت کے نشے میں ہے، دل بے حسی سے پتھر ہوچکا ہے، آپ کو نہ نظر آرہا ہے نہ سنائی دے رہا ہے اور نہ محسوس ہورہا ہے کہ لوگ روٹی کیلئے مارے مارے پھر رہے ہیں۔بلاول نے کہا کہ سندھ کے عوام کو دیوار سے کیوں لگایا جارہا ہے، صرف اس لئے کہ انھوں نے اپنے ووٹ چوری نہیں ہونے دیئے، انھوں نے کٹھ پتلیوں کو مسترد کردیا، صرف اس لئے کہ وہ مطلب پرستوں کے جھانسے میں نہیں آئے، اس لئے سندھ کے عوام کو سزا دے رہے ہو کہ وہ بھٹو کے وفادار ہیں ،اگر یہ بات ہے تو یاد رکھو اگر سندھ کے عوام نے اسلام آباد پر چڑھائی کا فیصلہ کر لیا، اگر بلوچستان کے عوام نے احساس محرومی کی وجہ سے اسلام آباد پر چڑھائی کافیصلہ کر لیا، اگر جنوبی پنجاب کے عوام نے حق لینے کیلئے، خیبرپختونخوا نے اسلام آباد پر چڑھائی کا فیصلہ کر لیا تو تمہاری حکومت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیں گے۔

اس پر ردعمل دیتے ہوئے حکومتی سینیٹر فیصل جاوید نے بلاول بھٹو کو دھرنے کے لیے جگہ دینے کی پیشکش کر دی ہے۔یصل جاوید نے کہا کہ یہ عوام سے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ پورا کر نہیں سکے. سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ بلاول بھٹو کا کہا ہوا سمجھ میں نہیں آتا، بلاول خود کچھ نہیں کر رہے، بس عمران خان پر تنقید کر رہے ہیں.انکا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو دو چار لوگ لے کر اسلام آباد پر چڑھائی کرنا چاہتے ہیں، تو شوق پورا کر لیں، ہم انھیں جگہ دیں گے.