فائنانس بل 23 جنوری کو پیش ہوگا ، اسٹاک ایکسچینج کے اچھی خبرہوگی اور کاروبار کو آسان بنانے جیسے اقدامات شامل ہوں گے،

معیشت کی ترقی کے لئے سرمایہ کاری میں اضافہ ضروری ہے، پاکستانی تجارتی خسارہ گزشتہ سال خطرناک حد تک بڑھ گیا تھا وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا کے سی سی آئی میں اجلاس کے دوران گفتگو

ہفتہ جنوری 23:40

فائنانس بل 23 جنوری کو پیش ہوگا ، اسٹاک ایکسچینج کے اچھی خبرہوگی اور ..
کراچی۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جنوری2019ء) وفاقی وزیر برائے خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ فائنانس بل 23 جنوری کو پیش کیا جائے گا، بل 21 جنوری کو پیش ہونا تھا لیکن وزیر اعظم عمران خان کے بیرونی ملک دورے کی وجہ سے اب 23 جنوری کو پیش ہوگا، فائنانس بل میں اسٹاک ایکسچینج کے لئے اچھی خبرہوگی اور کاروبار کو آسان بنانے جیسے اقدامات شامل ہوں گے، معیشت کی ترقی کے لئے سرمایہ کاری میں اضافہ ضروری ہے، پاکستانی تجارتی خسارہ گزشتہ سال خطرناک حد تک بڑھ گیا تھا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی ) میں کے سی سی آئی کے عہدیداران اور تاجروں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے پہلے پانچ ماہ کے دوران ملک کے کمزور طبقے کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ معیشت کی بہتری میں نجی شعبہ کا اہم کردار ہوتا ہے اور حکومت نجی شعبے کو سہولیات فراہم کرنا چاہتی ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف واحد سیاسی جماعت ہے جس نے انتخابات سے قبل اپنے منشور میں کارروبار کو آسان بنانا شامل کیا تھا اور ہر ماہ وزیر اعظم کے زیر صدارت اجلاس میں وزیر اعظم عمران اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نہ صرف ملک میں امن و امان قائم کرنے کی خواہاں ہے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ پورے خطے میں امن و امان قائم ہوں اور اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ تنازعہ کشمیر کے حل کے لئے بھارت سے مذاکرات کئے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت سے ڈائیلاگ کے لئے حکومت اور ملیٹری قیادت ایک پیج پر ہے۔ وزیرخزانہ نے بزنس کمیونٹی کو کہا کہ حکومت کے مثبت اقدامات کے نتائج جلد نظر آنا شروع ہو جائیں گے اور جلد ہی مختلف شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری شروع ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ برادر دوست ممالک سے بھی سپورٹ مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیس کے کم دباؤ اور ترسیل پر جلد قابو پالیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ معاشی اداروں میں صرف پروفیشنلز کو میرٹ کے بنیاد پر تعینات کیا جا رہاہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیوکے چھوٹے رینک کے افسران کے صوابدیدی اختیارات واپس لے لئے گئے ہیں۔ بعدازں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے معاشی بحران کے صورتحال پر قابو پالیا ہے اور کوئی کاروبار بند نہیں ہوا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے آئی ڈی سی ایل کے دائرہ کارکو بڑھایا گیا ہے اور وفاقی حکومت اس کمپنی کے تحت کراچی میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ اجلاس کے دوران کے سی سی آئی کے عہدیداران اور اراکین نے وفاقی وزیرخزانہ کو اپنے درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور اس کے حل کے لئے تجاویز بھی دیں۔