سپریم کورٹ نے نوازشریف ،ْ مریم اور کیپٹن صفدر کی سزائوں کی معطلی کے خلاف نیب کی اپیل خارج کر دی

عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا آپ ہمیں مطمئن کریں کہ ہم کیونکر سزا معطلی کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیں ،ْ چیف جسٹس کا نیب وکیل سے مکالمہ صرف ہارڈشپ کے اصولوں پر ضمانت ہو سکتی ہے ،ْنواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت ہارڈشپ کے اصولوں پر نہیں ہوئی ،ْ وکیل نیب ایک چیز سمجھ لیں عبوری حکم کبھی حتمی نہیں ہوتا ،ْ چیف جسٹس کا مکالمہ …جس بنیاد پر نواز شریف کو سزا ہوئی اسی بنیاد پر ان کی ضمانت بھی ہوئی ،ْجسٹس گلزاز احمد

پیر 14 جنوری 2019 14:40

سپریم کورٹ نے نوازشریف ،ْ مریم اور کیپٹن صفدر کی سزائوں کی معطلی کے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 جنوری2019ء) سپریم کورٹ آف پاکستا ن نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف ،ْ مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائوں کی معطلی کیخلاف نیب کی اپیل خارج کر تے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا ہے ۔پیر کو سابق وزیر اعظم نواز شریف ،ْ ان کی صاحبزادی مریم اور ان کے دامام کیپٹن صدر کی سزا ئوں کی معطلی کے خلاف نیب اپیلوں کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی ۔

بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس گلزار، جسٹس مشیر عالم اور جسٹس مظہر عالم شامل تھے۔سماعت شروع ہوئی تو نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اور مریم نواز کے وکیل امجد پرویز عدالت میں پیش ہوئے ۔

(جاری ہے)

نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ میں نے سترہ قانونی نکات جمع کرائے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ ہمیں نہیں پتا کہ ہم یہ سارے نکات سنتے ہیں یا نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کو بعد میں سن لیں گے پہلے نیب کے وکیل کو سن لیتے ہیں ۔چیف جسٹس نے نیب وکیل سے مکالمہ کیا کہ ہمیں سارے حقائق پتہ ہیں اس سے ہٹ کر آپ کس بنیاد پر ضمانت منسوخی چاہتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ بتا دیں کن اصولون پر ضمانت منسوخ ہو سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ یہ بھی بتا دیں کہ کیا ہائی کورٹ کو سزا معطل کرنے کا اختیار تھا ۔

نیب وکیل نے کہاکہ ضمانت کے کیس میں میرٹ کو نہیں دیکھا جا سکتا تاہم ہائی کورٹ نے میرٹ کو دیکھا۔نیب وکیل نے کہاکہ اس کیس میں عدالت ہائی کورٹ ٹرائل کورٹ کے میرٹ پر گئی جو اختیارات سے تجاوز تھا ۔نیب وکیل نے کہاکہ ہائی کورٹ نے خصوصی حالات کو بنیاد بنایا ۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ لیکن ضروری نہیں کہ یہ حالات واقعی ایسے ہوں ۔چیف جسٹس ضمانت تو اب ہوگئی ہے بی شک غلط اصولوں پر ہوئی ہو۔

چیف جسٹس نے کہاکہ آپ ہمیں مطمئن کریں کہ ہم کیونکر سزا معطلی کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیں۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ آپ ضمانت منسوخی کن بنیادوں پر چاہ رہے ہیں۔نیب وکیل نے جواب دیا کہ میں سپریم کورٹ کے مقدمات کی بنیاد پر ہی کہہ رہا ہوں۔ نیب وکیل نے کہاکہ صرف ہارڈشپ کے اصولوں پر ضمانت ہو سکتی ہے۔وکیل نیب نے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت ہارڈشپ کے اصولوں پر نہیں ہوئی۔

چیف جسٹس نے نیب وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایک چیز سمجھ لیں عبوری حکم کبھی حتمی نہیں ہوتا ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ عبوری حکم حتمی حکم پر اثر انداز بھی نہیں ہوتا ۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ جس بنیاد پر نواز شریف کو سزا ہوئی اسی بنیاد پر ان کی ضمانت بھی ہوئی ۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ آپ نے تو اس بنیاد کو چیلنج ہی نہیں کیا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ہائی کورٹ نے خود کہا اوبزرویشن حتمی نہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ صرف انتہائی بیماری اور علالت کی وجہ سے ضمانت ہو سکتی ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے غیر ضروری طور پر تجاوز نہیں کیا۔نیب وکیل نے کہاکہ ہارڈشپ کی بنیادوں پر ضمانت نہیں ہوئی جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ لیکن یہ کوئی آپ کی ٹھوس بنیاد نہیں۔بعد ازاں عدالت نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزا معطلی کے خلاف نیب اپیلیں خارج کر تے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے ۔

یاد رہے کہ احتساب عدالت نے گذشتہ برس 6 جولائی کو سابق وزیراعظم نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں 10 سال قید اور جرمانے، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال قید اور جرمانے جبکہ داماد کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی، جسے بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے 19 ستمبر کو معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم جاری کیا تھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزا معطلی کے خلاف نیب نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

گذشتہ سماعت پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے نواز شریف کی سزا معطلی کے فیصلے کو فقہ قانون کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کیس میں پیدا ہونے والے اہم آئینی نکات کے پیش نظر لارجر بینچ بنانے کا حکم دیا تھا۔