سرکاری سکولوں میں کلر ڈے اور فئیر ویل منانے پر پابندی عائد

فئیر ویل ایک اچھی روایت ہے پابندی لگانا درست اقدام نہیں ہے، سکول سربراہان نے فیصلے کی مخالفت کر دی

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان ہفتہ فروری 13:25

سرکاری سکولوں میں کلر ڈے اور فئیر ویل منانے پر پابندی عائد
فیصل آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 فروری 2019ء) فیصل آباد سے سکولوں میں فئیر ویل منانے کے حوالے سے خبر سامنے آئی ہے جہاں سرکاری سکولوں میں کلر ڈے اور فئیر ویل منانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ڈی ای او سینڈری ایجوکیشن نے سکولوں کے سربراہان کو مراسلہ جاری کر دیا ہے جس میں ہدایت کی گئی ہے کہ سکولوں میں کوئی کلر ڈے نہیں منایا جائے گا اور نہ ہی فئیر ویل منقعد کی جائے گی۔

اس فیصلے کے بعد سکول اساتذہ کا کہنا ہے کہ فئیرویل پر پابندی لگانا درست اقدام نہیں۔سکول سربراہان کا کہنا ہے کہ فئیر ویل ایک اچھی روایت ہے پابندی لگانا درست اقدام نہیں ہے۔جب کہ سرکاری سکولوں کے طلباء نے بھی فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جس سکول میں اتنے سال پڑھا ہو وہاں سے اچھی یادیں لے کر جانے کے لیے فئیر ویل کا ہونا ایک اچھی بات تھی لیکن اب اس پر پابندی لگا دینا افسوسناک ہے کیونکہ پہلے ہی سرکاری سکولوں میں اس طرح کی سرگرمیاں بہت کم کی جاتی ہیں۔

(جاری ہے)

جب کہ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ روز سکولوں کے بچوں کے ہوم ورک پر پابندی کی تجاویز مانگ تھیں، بچے سکولوں میں 8 گھنٹے گزارتے ہیں، توپھر ہوم ورک کیوں ؟ دوسری صحت مند سرگرمیوں میں حصہ لینا بچوں کی نشرونماء کیلئے ضروری ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی نعیم الحق نے ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں بتایا کہ سکولوں میں زیرتعلیم بچوں کیلئے ہوم ورک پر پابندی ہونی چاہیے یا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ بچے سکول میں پڑھائی کیلئے 6 سے 8 گھنٹے گزارتے ہیں، اور اگر گھر میں بھی آکر انہیں مزید ایک یا دو گھنٹے ہوم ورک کیلئے مختص کرنا پڑ جائیں تو ان کو دوسری صحت مند سرگرمیوں کیلئے بہت کم وقت ملتا ہے، لیکن یہ وقت بچوں کی نشرونما کیلئے ضروری ہوتا ہے۔

بچوں کیلئے تعلیم وتربیت دونوں ضروری ہونی چاہئیں۔