بے حیائی کی انتہا

ماموں اپنی 14 سالہ بھانجی کو لے اُڑا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ فروری 14:28

بے حیائی کی انتہا
لاڑکانہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 02 فروری 2019ء) : پاکستان میں حال ہی میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جنہیں سُن کر یا پڑھ کر انسانی رشتوں سے اعتبار اُٹھ جاتا ہے۔ حال ہی میں ایک خبر سامنے آئی جس میں بتایا گیا کہ ایک والد نے اپنی ہی بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی اور اسے کئی سال تک حبس بے جا میں رکھا۔ یہ واقعہ سامنے آنے کے بعد ملزم سعید احمد خان کو اپنی ہی بیٹی کے ساتھ کئی سال تک بد فعلی کرنے پر 12 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

اس طرح کے اور کئی کیسز ہیں جہاں خون کے رشتے حیوانی آنکھوں اور درندگی کے ہاتھوں مجبور ہو کر خاندان کی لڑکیوں اور خواتین پر بُری نظر رکھتے ہیں جو بے حیائی کی سب سے بڑی مثال بن کر اُبھرتے ہیں۔ اب سامنے آنے والی خبر کے مطابق لاڑکانہ کے علاقہ میں ایک شخص اپنی 14 سالہ بھانجی کو لے اُڑا اور مبینہ طور پر اس سے شادی بھی کر لی۔

(جاری ہے)

اس واقعہ نے پورے خاندان میں ہلچل مچا دی،لڑکی کے اہل خانہ نے قرآن پاک کی قسم کھائی اور اپنی بیٹی کی بازیابی کے لیے احتجاج بھی شروع کر دیا۔

لڑکی کا والد جو ملزم کا بہنوئی ہے، نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ میری بیٹی کائنات کو میرے سالے راشد نے اغوا کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کائنات شادی کے لیے فی الوقت بہت چھوٹی عمر کی ہے، لیکن اس کے علاوہ راشد اور کائنات کے درمیان ماموں بھانجی کا رشتہ ہے جس کی وجہ سے یہ شادی غیر قانونی اور کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ اس واقعہ کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

البتہ اغوا کے اس واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد لوگوں میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے کہ ایک ملک، جسے اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا، میں کس قسم کے گھنائونے اور بے حیائی سے بھرپور واقعات سننے کو مل رہے ہیں۔ اس طرح کے واقعات کے لیے باقاعدہ قوانین نہ ہونے کی وجہ سے عدالت کیس کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرتی ہے۔