کرتار پور میں جس زمین پر بابا گرو نانک نے کھیتی باڑی کی اس پر کوئی عمارت تعمیر نہ کی جائے ، قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

اراضی کو کھیتی باڑی کیلئے ہی استعمال کر کے حاصل ہونیوالا اناج کرتارپور گورودوارا کے لنگرخانہ میں استعمال کیا جانا چاہئے‘متن

ہفتہ فروری 15:20

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 فروری2019ء) کرتار پور میں جس زمین پر بابا گرو نانک نے کھیتی باڑی کی اس پر کوئی عمارت تعمیر نہ کرنے کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروا دی گئی ۔قرارداد تحریک انصاف کی رکن پنجاب اسمبلی مومنہ وحید کی جانب سے جمع کرائی گئی جس کے متن میں کہا گیا ہے کہ کرتار پور گورودوارہ سکھ برادری کے لئے خاص اہمیت کا حامل ہے اور کرتارپور راہداری کھلنے سے یہاں بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ ایوان تسلیم کرتا ہے کہ کرتار پور گورودوراہ کی زرعی اراضی پر بابا جی گرو نانک نے 18سال ہل چلایا، کھیتی باڑی کی اوراناج غریبوں میں تقسیم کیا اور نارروال کے اس مقام کا نام کرتارپور بھی باباجی گرونانک نے ہی رکھا تھا ،یہ ایوان یہ سمجھتا ہے کہ جس اراضی پر بابا جی گرونانک نے کھیتی باڑی کی وہاں کوئی عمارت تعمیر نہ کی جائے بلکہ کسی دوسرے رقبہ پر عمارت تعمیر کی جانی چاہئے تاکہ سکھ برادری کے مذہبی جذبات مجروح نہ ہوں۔

(جاری ہے)

جس اراضی پر بابا جی گرونانک نے کھیتی باڑی کی اس اراضی کو کھیتی باڑی کے لئے ہی استعمال کیا جانا چاہئے اور وہاں سے حاصل ہونے والا اناج کرتارپور گورودوارا کے لنگرخانہ میں استعمال کیا جانا چاہئے۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کرتارپور کی جس اراضی پر بابا جی گرونانک نے حل چلایا، کھیتی باڑی کی اور اناج پیدا کیا وہاں کوئی عمارت تعمیر نہ کی جائے بلکہ اس اراضی پر کھیتی باڑی ہی کی جائے اور وہاں سے حاصل ہونے والے اناج کو کرتارپور گورودوارہ کے لنگرخانہ میں استعمال کیا جائے۔