محکمہ داخلہ پنجاب کو سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیماریوں کا علم ہی نہیں

سابق وزیراعظم نواز شریف کے علاج کے لیے کارڈیک وارڈ کی سہولیات نہ رکھنے والے اسپتال کا مراسلہ جاری کردیا گیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ فروری 15:24

محکمہ داخلہ پنجاب کو سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیماریوں کا علم ہی ..
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 02 فروری 2019ء) : محکمہ داخلہ پنجاب نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے علاج کے لیے ان کی اسپتال منتقلی کی مراسلہ تو جاری کر دیا لیکن بظاہر محکمہ داخلہ پنجاب سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیماریوں سے لاعلم نکلا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے علاج کے لیے جس اسپتال کا مراسلہ جاری کیا گیا ہے وہاں کارڈیک وارڈ ہی نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف دل کی بیماریوں میں مبتلا ہیں ، ان کے علاج کے لیے محکمہ داخلہ نے سروسز اسپتال منتقلی کا مراسلہ جاری کیا جہاں کارڈیک وارڈ ہی نہیں اور نہ وہاں دل کے مریضوں کا علاج ہوتا ہے اور سونے پر سہاگہ یہ کہ سروسز اسپتال میں میاں نواز شریف کے لئے وی وی آئی پی کمرہ بھی تیار کرلیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سابق وزیر اعظم دل کے عارضہ میں مبتلا ہیں، ای سی جی، کارڈیوگرافی اور دیگر ٹیسٹ کی تسلی بخش رپورٹ نہ آنے پر اسپتال میں داخل کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کوٹ لکھپت جیل میں قید سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبیعت خرابی کے پیش نظر انہیں اسپتال منتقل کرنے کی منظوری دی تھی۔ اس حوالے سے محکمہ داخلہ پنجاب نے بتایا کہ نوازشریف کو آج سروسز اسپتال منتقل کیا جارہا ہے، جہاں ان کے ٹیسٹ ہوں گے اور مکمل ٹیسٹ تک وہ اسپتال میں ہی رہیں گے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف کو ان کی یڈیکل رپورٹ کی بنا پر ہی اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

نئی میڈیکل رپورٹ کے مطابق نوازشریف کو پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے۔ یاد رہے کہ 30 جنوری کو میڈیکل بورڈ نے کوٹ لکھپت جیل میں قید سابق وزیراعظم نواز شریف کا دو گھنٹے تک طبی معائنہ کیا۔ آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سینئیر پروفیسرز ڈاکٹر بریگئڈیر عبد الحمید صدیق اور بریگیڈئر عظمت حیات، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے پروفیسر شاہد حمید اور ڈاکٹر سجاد احمد، راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیولوجی کے پروفیسر ڈاکٹر حامد شریف خان اور ڈاکٹر طلحہ بن نذیر پر مشتمل خصوصی میڈیکل بورڈ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے کوٹ لکھپت جیل میں مختلف ٹیسٹ کیے تھے جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔