انشاءاللہ اپنی زندگی میں ہی کشمیرکوآزاد دیکھوں گا،آصف زرداری

کشمیرکاز کو سب سے زیادہ نقصان ڈکٹیٹروں کے دور میں پہنچا، تمام سیاسی جماعتوں کوکشمیرکازپرمل کرکام کرنا ہوگا، کشمیریوں کی قربانیوں کوکبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ کشمیر کانفرنس سے خطاب

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ فروری 15:26

انشاءاللہ اپنی زندگی میں ہی کشمیرکوآزاد دیکھوں گا،آصف زرداری
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 فروری 2019ء) پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدرآصف زرداری نے صحافیوں سے حکومت گرانے کیلئے مدد مانگ لی۔ انہوں نے کہا کہ صحافی برادری مشکل میں ہے، حکومت گرانے کیلئے کندھے سے کندھا ملائیں، انشاءاللہ اپنی زندگی میں کشمیر کو آزاد دیکھوں گا، کشمیر کاز کو سب سے زیادہ نقصان ڈکٹیٹروں کے دور میں پہنچا، تمام سیاسی جماعتوں کوکشمیرکازپرمل کرکام کرنا ہوگا۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے آج یہاں کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی قیادت کی بھارت سے جب بھی مذاکرات ہوئے کشمیر پر بات ہوئی۔ کشمیریوں کی قربانیوں کوکبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ پاکستان نے ہر فورم پرمسئلہ کشمیرسے متعلق آوازبلند کی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کشمیر کاز کو سب سے زیادہ نقصان ڈکٹیٹروں کے دور میں پہنچایا گیا۔

آصف زرداری نے صحافیوں سے حکومت گرانے کیلئے مدد مانگ لی۔صحافی برادری مشکل میں ہے ۔ ہم چاہتے ہیں ان کے معاملات کو ٹھیک کریں۔اس لیے صحافی حکومت گرانے کیلئے کندھے سے کندھا ملائیں۔ مولانا فضل الرحمن کی زیرصدارت کشمیر کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ فضل الرحمن نے آصف زرداری سمیت دیگر قیادت کا خود جا کر استقبال کیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ سربراہ جے یوآئی ف فضل الرحمان ایک بار اپوزیشن اتحاد کو متحد کرنے کیلئے سرگرم ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب حکومت نے سینئر سیاستداں اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فخر امام کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے فخر امام کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنانے کے حوالے سے نوٹیفکیشن جلد جاری کیا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق فخر امام رکن قومی اسمبلی اور ممبر پی اے سی بھی ہیں،وہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی بھی رہ چکے ہیں۔ان کی اہلیہ بیگم عابدہ حسین بھی سینئر سیاستدان ہیں اور نواز شریف کے پرانے دور حکومت میں وزیر بھی رہ چکی ہیں۔موجودہ حکومت سے قبل مولانا فضل الرحمان 2008ء سے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے پر فائز رہے۔