کرتارپور میں جس زمین پر بابا گرو نانک نے کھیتی باڑی کی اس پر کوئی عمارت تعمیر نہ کی جائے

پاکستان تحریک انصاف کی رکن مومنہ وحید کی جانب سے قرارداد پنجاب اسمبلی میں پیش کر دی گئی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ فروری 16:32

کرتارپور میں جس زمین پر بابا گرو نانک نے کھیتی باڑی کی اس پر کوئی عمارت ..
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 02 فروری 2019ء) : کرتار پور میں جس زمین پر بابا گرو نانک نے کھیتی باڑی کی اس پر کوئی عمارت تعمیر نہ کرنے کے مطالبے پر مبنی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق یہ قرارداد پاکستان تحریک انصاف کی رکن پنجاب اسمبلی مومنہ وحید کی جانب سے جمع کروائی گئی۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ کرتار پور گردوارہ سکھ برادری کے لئے خاص اہمیت کا حامل ہے اور کرتارپور راہداری کھُلنے سے یہاں بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

قرار داد کے متن میں کہا گیا کہ یہ ایوان تسلیم کرتا ہے کہ کرتار پور گردوراہ کی زرعی اراضی پر بابا جی گرو نانک نے 18سال ہل چلایا۔ کھیتی باڑی کی اوراناج غریبوں میں تقسیم کیا اور نارروال کے اس مقام کا نام کرتارپور بھی باباجی گرونانک نے ہی رکھا تھا۔

(جاری ہے)

ایوان یہ سمجھتا ہے کہ جس اراضی پر بابا جی گرونانک نے کھیتی باڑی کی وہاں کوئی عمارت تعمیر نہ کی جائے۔

بلکہ کسی دوسرے رقبہ پر عمارت تعمیر کی جانی چاہئیے تاکہ سکھ برادری کے مذہبی جذبات مجروح نہ ہوں۔ پاکستان تحریک انصاف کی رکن اسمبلی کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں جمع کروائی گئی قرارداد میں کہاگہا کہ صوبائی اسمبلی پنجاب کا معزز ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ جس اراضی پر بابا جی گرونانک نے کھیتی باڑی کی اس اراضی کو کھیتی باڑی کے لئے ہی استعمال کیا جانا چاہئیے۔

وہاں سے حاصل ہونے والا اناج کرتارپور گردوارا کے لنگرخانہ میں استعمال کیا جانا چاہئیے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 28 نومبر 2018ء کو کرتارپورکوریڈورکا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ جس کے بعد سکھ برادری میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور کرتاپور راہداری کا سنگ بنیاد رکھنے پر سکھ برادری کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کا شکریہ بھی ادا کیا گیا۔