ہم جیل سے نکال کر لا رہے ہیں ، آپ ہمیں گالیاں دے رہے ہیں، نعیم الحق کی شہباز شریف پر تنقید

نوازشریف کو سہولیات دستیاب ہیں ، مسلم لیگ (ن)کی طرف سے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جارہاہے ،ہمیں پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے تعاون کی ضرورت ہے، پاکستان کے دور دراز کے شہروں میں بھی کھیلوں کے گرائونڈ کے علاوہ کئی ارب درخت لگائیں گے، میڈیا سے گفتگو

ہفتہ فروری 17:11

ہم جیل سے نکال کر لا رہے ہیں ، آپ ہمیں گالیاں دے رہے ہیں، نعیم الحق ..
راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 فروری2019ء) وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق نے شہباز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ آپ کو ہم جیل سے نکال کر لا رہے ہیں ، آپ ہمیں گالیاں دے رہے ہیں،نوازشریف کو سہولیات دستیاب ہیں ، مسلم لیگ (ن)کی طرف سے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جارہاہے ،ہمیں پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے تعاون کی ضرورت ہے، پاکستان کے دور دراز کے شہروں میں بھی کھیلوں کے گرائونڈ کے علاوہ کئی ارب درخت لگائیں گے۔

نعیم الحق نے راولپنڈی پبلک پارک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ صحافی حضرات سے تاخیر پر آنے پر معذرت خواہ ہوں۔ انہوںنے کہاکہ ہماری حکومت کو پانچ ماہ ہو چکے وزیر اعظم کی خواہش ہے جگہ جگہ کھیلوں کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوںنے کہاکہ یہاں پہنچ کر خوشی ہوئی اور یہ اقدام قابل ستائش ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ پاکستان کے دور دراز کے شہروں میں بھی کھیلوں کے گرائونڈ کے علاوہ کئی ارب درخت لگائیں گے۔

انہوںنے کہا کہ ہم چاہتے ہیں نئی نسل ایک صحت مند ماحول میں نشو نما ہو۔ انہوںنے کہاکہ وہ ہیرے جو ریت میں چھپے ہوئے ہیں وہ اپنے کھیل سے ملک کا نام روشن کر سکیں۔ انہوکںنے کہاکہ وزیراعظم انقلابی تبدیلی لا رہے ہیں اور مزید گرائونڈ بھی بنا رہے ہیں۔ پبلک اکائونٹس کے چیئر مین کے حوالے سے سوال پر انہوںنے کہاکہ شیخ رشید نے میٹنگ میں کہا تھا کہ فیصلہ درست نہیں اور سپریم کورٹ سے رجوع کرونگا۔

انہوکںنے کہاکہ کہ ایک ملزم شخص کیسے پبلک اکائونٹس کمیٹی میں شرکت کر سکتے ہیں ،یہ نہیں۔ انہوںنے کہا کہ ہمیں پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ کمیٹیاں بنا دی گئی ہیں جس میں وہ بھی شامل ہیں۔ انہوںنے کہا کہ مسلم لیگ (ن )کی طرف سے گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے نواز کو سہولیات دستیاب ہیں۔ انہوکںنے کہ اکہ کاش کہ مجھے جھوٹ بولنے کی عادت ہوتی ،سچ کو دل میں نہیں رکھ سکتا۔

انہوںنے کہاکہ شہباز شریف نے آتے ہی وزیراعظم پر فقرے کسنے شروع کر دیئے،وہ مجھ سے عمر میں چھوٹے ہیں اور یہ مقصد نہیں کہ وزیراعظم کو گالیاں نکالیں۔ انہوںنے کہاکہ آپ کو ہم جیل سے نکال کر لا رہے ہیں اور آپ ہمیں گالیاں دے رہے ہیں۔ ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ ہمیں بہت افسوس ہوا ہے کہ میڈیا پر ملازمین کو نکالا جا رہا ہے،وزیراعظم نے سب کو بلا کر کیا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

انہوںنے کہاکہ جو نظام ملک میں رائج ہے اس میں مسائل کا حل موجود نہیں مگر کرپشن برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوںنے کہاکہ پچاس لاکھ گھر بنانے جا رہے ہیں اور اسکا آغاز ہو چکا اور مزید روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔ انہوںنے کہا کہ ڈگریوں والے افراد کی بے روزگاری کے زمہ دار گزشتہ حکومت ہے۔ ایک اور سوال پرانہوںنے کہاکہ قانون یہ کہتا ہے کہ وہ کسی بھی ممبر کو پروڈکشن آرڈر جاری کرکے قومی اسمبلی میں لا سکتا ہے۔

ایک سوال پرانہوںنے کہاکہ وزیر اعظم جب قومی اسمبلی میں داخل ہوئے تو انہوں نے بیت اچھی تقریر تیار کر رکھی تھی،مگر نعرے بازی کی باعث ماحول خراب ہوا۔ انہوںنے کہاکہ لیڈر جو اس وقت قومی اسمبلی میں جو کچھ کر رہے ہیں وہ افسوسناک ہے۔انہوںنے کہا کہ ساہیوال کے قاتل واقعہ کی ساری ویڈیو موجود ہیں اس پر مقدمہ بن چکا ہے،ملزمان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔