حکومت نواز شریف کی صحت سے متعلق بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے کچھ ہوا تو ذمہ دار وزیراعظم ہونگے‘ حمزہ شہباز

گالیاں دینے اور الزام تراشی سے 22کروڑ عوام کا پیٹ نہیں بھر تا، انضما م پلس وزیر اعلیٰ نے دو آئی جیز کو چپڑاسی کی طرح فارغ کیا مانگے تانگے کے ڈالروں سے معیشت کا بیڑہ غرق کیا جارہا ہے ،نیازی صاحب نے پانچ ماہ بعد تسلیم کر لیا ہے معاشی حالات بہتر نہیں ہیں نیازی صاحب نئے صوبے بنائیںہم غیر مشروط حمایت کرینگے،سانحہ ساہیوال پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے ،حکومت کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے اسد عمرصاحب ڈیڑھ فیصد موبائل فون کی قیمتوں کو بڑھانے سے کچھ نہیں ہوگا،غیر یقینی کی صورتحال قوموں کیلئے اچھی نہیں ہوتی علیمہ خان کو این آر او دینے کے لئے اسمبلی میں بل لایاگیا،یہ مانگے تانگے کی حکومت ہے ہم چاہیں تو بہت کچھ کر سکتے ہیں �) لیگ مشترکہ اپوزیشن کا حصہ ہے ،مولانافضل الرحمن اور اتحادیوں سے مشاورت کے بعد لانگ مارچ سمیت دیگر معاملات کوطے کرینگے قائدحزب اختلاف کی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں دیگر رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس

ہفتہ فروری 17:21

حکومت نواز شریف کی صحت سے متعلق بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے کچھ ہوا تو ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 فروری2019ء) پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ حکومت نواز شریف کی صحت سے متعلق بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے اوراہل خانہ کو انکی صحت سے متعلق کچھ آگاہ نہیں کیا جا رہا، نواز شریف کو کچھ ہوا تو ذمہ دار وزیراعظم ہوں گے،نیازی صاحب نے وعدہ کیا تھا کہ ہم نئے صوبہ بنائیں گے، حکومت جنوبی پناب اور بہاولپور کو صوبہ بنائے ہم غیر مشروط حمایت کرینگے،سانحہ ساہیوال پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور جب تک متاثرہ خاندان کو انصاف نہیں ملتا حکومت کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے،گالیاں دینے اور الزام تراشی سے 22کروڑ عوام کا پیٹ نہیں بھر تا، انضما م پلس وزیر اعلیٰ پنجاب نے دو آئی جیز کو چپڑاسی کی طرح فارغ کیا ، مانگے تانگے کے ڈالروں سے معیشت کا بیڑہ غرق کیا جارہا ہے ،نیازی صاحب نے پانچ ماہ بعد تسلیم کر لیا ہے کہ معاشی حالات بہتر نہیں ہیں،(ن) لیگ مشترکہ اپوزیشن کا حصہ ہے ،مولانافضل الرحمن اور اتحادیوں سے مشاورت کے بعد لانگ مارچ سمیت کسی بھی طرح کا فیصلہ کریںگے۔

(جاری ہے)

پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں دیگر رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حمزہ شہبا ز نے کہا کہ جب مسلم لیگ (ن) نے پنجاب حکومت چھوڑی تو اس وقت 650ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تھا لیکن پی ٹی آئی کی مانگے تانگے کی جعلی مینڈیٹ والی حکومت نے اس میں 450ارب روپے کا کٹ لگا دیا ۔ ہم جنوبی پنجاب کے بجٹ کو 16فیصد سے 36فیصد پر لے کر گئے اور 228ارب روپے کا بجٹ رکھا لیکن موجودہ حکومت نے 12کروڑ کے صوبے کابجٹ 235ارب روپے بجٹ رکھا ، ایسے میں کیسے ترقی ہو گی ۔

انہوں نے کہا عبد الحکیم موٹروے کا 148ارب روپے کا منصوبہ سی پیک سے جڑا ہے جو مکمل ہوچکا ہے لیکن نیاز ی صاحب نے اسے کھولنا گوارا نہیں کیا اوریہ جنوبی پنجاب کی عوام کیلئے ایک تحفہ ہے۔ اسی طرح ملتان ، سکھر 393کلو میٹر منصوبے کا 90فیصد کام مکمل ہے لیکن اسے مکمل نہیں کیا جارہا ۔جنوبی پنجاب پبلک سروس کمیشن میں کوٹہ آٹھ سے اٹھائیس فیصد تک لے گئے لیکن موجودہ حکومت میں اس پر عملدرآمد نہیں ہورہا۔

رحیم یار خان جائیں خواجہ فرید آئی ٹی یونیورسٹی دیکھیں تو اپنے وعدے کی یاد ستائے گی ۔جب کنٹینرپر چڑھ کر قوم سے سبز باغ دکھارہے تھے تو سیلاب میں اس وقت دوکروڑ ڈوب گئے تھے ۔ خیبر پختوانخواہمیںبھی ہلاکتیں ہوئیں لیکن اس وقت وہاں کے وزیر اعلیٰ ڈانس کر رہے تھے ۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے سیلاب زدہ علاقوں میں ڈیرے لگائے ، ان کے جانوروں کے لئے چارے کا انتظام کیا ، فصلوں کی بحالی کیلئے امداد دی ، انہیں چھت دی ۔

انہوںنے کہا کہ پنجاب کے سینئر وزیر نے اورنج لائن منصوبے کو سفید ہاتھی کہا لیکن اس سے اگلے روز سپریم کورٹ نے اس منصوبے کو لاہور کی عوام کے لئے تحفہ قرار دیا ، نیازی صاحب میٹرو بس کو جنگلا بس کہا کرتے تھے لیکن پانچ سال بعد انہیں پشاور میں میٹرو بس منصوبہ بنانے کا خیال آگیا،پشاور میں منصوبے کی لاگت 100ارب تک پہنچ گئی ہے لیکن ابھی تک وہاںکھنڈرات نظر آرہے ہیں ، اس منصوبے کا سریا تک چوری کرکے فروخت کیا جارہا ہے ۔

انہوںنے کہا کہ آج ملک کی معیشت وینٹی لیٹر پر ہے ،شہباز شریف نے پہلے دن کہا کہ معاشی حالات کی بہتری کے لئے ہم غیر مشروط طو رپر آپ کے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہیں لیکن اس کے جواب میں ہمیں گالیاں، ڈاکو ، چور ، اور جیلیں ملیں ۔ کیا پانچ مہینے میں تین بجٹ پیش کرنے اور گالیاں دینے سے معیشت سنبھل گئی ہے ۔ کیا جیلوں میں ڈالنے کی گیڈ ر بھبھکیوں سے ڈالر کی قیمت کم ہوئی ہے بلکہ یہ پاکستان کی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچی ہے اور روپے کی قدر میں 35فیصد کمی ہوئی ہے۔

موڈیز کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میںپاکستان کی معاشی مشکلات مزید بڑھیں گے اور اسے آئی ایم ایف کی سخت شرائط ماننا پڑیں گی ، حکومت نے بیرون ممالک اور مرکزی بینک سے کھربوں روپے کا قرض لے لیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق سرمایہ کاروں کا 26فیصد اعتماد کم ہوا ہے ۔ حکمران مانگے تانگے کے ڈالرز سے معیشت کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ شکر ہے نیازی صاحب نے پانچ بعد تسلیم کر لیا ہے کہ معاشی حالات بہتر نہیں ہیں ، شکر ہے پانچ میں کمر توڑ مہنگائی، گالیوں کے گونجنے اور اپوزیشن کے خلاف غلیظ زبان استعمال کرنے کے بعد آپ کو ہوش آئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے تعاون دینے کا اعلان کرنے والے شہباز شریف کی گالیوں سے تواضع کی ، انہیں چھ مہینے سے قید رکھا ہے لیکن ان پر ایک پائی کی کرپشن ثابت نہیں ہو سکی ۔اگر آپ کو پاکستان کی پرواہ نہیں تو جومرضی کریں لیکن ہوش کے ناخن لیں ۔ انہوںنے کہا کہ انضما م پلس وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے دو آئی جیز کو چپڑاسی کی طرح فارغ کیا او رپھر سپریم کورٹ میں ہاتھ جوڑ کر معافی ماگنی،اعظم سواتی کے معاملہ پر وٹس ایپ پر افسرکوبرطرف کیاگیا ، سپریم کورٹ نے واضح کہا کیا یہ ہے نیا پاکستان ، درانی صاحب آپ پر عدم اعتماد کرکے استعفیٰ دے کر گھر چلے گئے ۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ نیازی صاحب آپ بڑی بڑی باتین کرتے ہیں لیکن کیا خلیل جس کے خاندان پر قیامت صغریٰ ٹوٹی آپ نے انصاف کیا ، اس پر جوڈیشل کمیشن بن جاتا تو انصاف ہوجاتا اور اس سے آپ کی بھی عزت ہوتی ۔ بزدار صاحب کہہ رہے ہیں کہ اس واقعہ کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کی ضرورت نہیں، بزدار صاحب اللہ سے ڈریں ،جن بچوں کے والدین کو ان کی آنکھوں کے سامنے قتل کر دیا گیا آپ ان کیلئے پھولوں کے گلدستے لے کر پہنچ گئے ،اگر اپ ان کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے تو کم از کم نمک تونہ چھڑکیں ۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ اس پر فی الفور جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور اسی سے قوم کی تسلی ہو گی ۔ میں سچ کی خاطر لڑوں گا اور آخری حد تک جائوں گا اور جب تک انصاف نہیں ہوگا حکومت کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔ انہوںنے کہا کہ جعلی مینڈیٹ والی حکومت ویزا پالیسی میںنرمی ، سوئٹرز لینڈ سمیت26 ممالک سے ہونے والے معاہدوں کے حوالے سے کریڈٹ لینا چاہتی ہے ، نیازی صاحب آپ تو سپورٹس مین ہیں آپ میں سپورٹس مین سپرٹ ہونی چاہیے اور کم از کم قوم سے سچ توبولیں ۔

انہوںنے نواز شریف کی صحت کے حوالے سے کہا کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور اس حوالے سے پوری قوم کو تشویش ہے۔نواز شریف کو اللہ تعالی نے تین مرتبہ وزیر اعظم بنایا،صحت سے آگے کچھ نہیں ہے لیکن حکومت کی جانب سے بے حسی کا مظاہرہ کیا جارہا ، خاندان کو ان کی صحت کے بارے میں کچھ آگاہ نہیں کیا جارہا ،بے حس حکمرانوں کو کہوں گا اللہ سے ڈریںاور ان کا علاج کروائیں،اگر نواز شریف کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار عمران نیازی ہوں گے ۔

انہوںنے کہا کہ ہم نے جعلی مینڈیٹ کے باوجود تسلیم کیا کہ جمہوری نظام چلنا چاہیے ۔قوم سے وعدہ کرتاہوں تعمیری اپوزیشن کریں گے حکومت گرانے کاشوق نہیں ،جھوٹ کے وزن سے حکومت خود ہی گرجائے گی لیکن انہیں سیاسی شہید نہیں بننے دیں گے،۔ انہیں کنٹینر پر کئے گئے جنوبی پنجاب سمیت تمام وعدے یاد کروائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کے پاس جائوں گا اور ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

انہوںنے کہا کہ ہماری حکومت نے دیا میر بھاشا ڈیم کے لئے 122ارب روپے سے زمین خریدی لیکن یہ اس پر بھی پیشرفت نہیں کر سکے۔حج اخراجات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے اور جن بزرگوں نے 70سال سے اللہ کے گھر جانے کے خواب دیکھے تھے وہ چکنا چور ہو گئے ہیں۔اسد عمرصاحب ڈیڑھ فیصد موبائل فون کی قیمتوں کو بڑھانے سے کچھ نہیں ہوگا۔غیر یقینی کی صورتحال قوموں کیلئے اچھی نہیں ہوتی ۔

علیمہ خان کو این آر او دینے کے لئے اسمبلی میں بل لایاگیا۔اربوں روپے کا ذریعہ سلائی مشینیں قرار دی جارہی ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ یہ مانگے تانگے کی حکومت ہے ہم چاہیں تو بہت کچھ کر سکتے ہیں ، لیکن ہم کہتے ہیں کہ کام کریں یا قوم سے معافی مانگ کر واپس چلے جائیں ۔ انہوںنے کہا کہ (ن) لیگ مشترکہ اپوزیشن کا حصہ ہے ،مولانافضل الرحمن اور اتحادیوں سے مشاورت کے بعد لانگ مارچ سمیت دیگر معاملات کوطے کریں گے۔ انہوں نے شیخ رشید کے حوالے سے کہا کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے ۔