سبسڈی کوچھوڑو، یہ بتاؤ! حج ساڑھے4 لاکھ تک کیسے پہنچا؟

بتایا جائے کہ حج کا خرچہ ایک سال میں2 لاکھ 80 ہزارروپے سے4 لاکھ 45 ہزار تک کیسے پہنچ گیا؟ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے دیہاڑیاں؟ کیا ان کو شوکت خانم کے اکاؤنٹس سمجھا جائے؟ سینئرصحافی رضوان رضی

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ فروری 17:39

سبسڈی کوچھوڑو، یہ بتاؤ! حج ساڑھے4 لاکھ تک کیسے پہنچا؟
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 فروری2019ء) سینئر صحافی رضوان رضی نے حکومت سے سوال کیا ہے کہ سبسڈی کو چھوڑو، یہ بتاؤحج کا خرچہ ساڑھے لاکھ تک کیسے پہنچا؟ حج کا خرچہ ایک سال میں 2لاکھ 80 ہزار روپے تھا لیکن بتایا جائے کہ یہ خرچہ 4 لاکھ 45 ہزار تک کیسے پہنچ گیا؟ دن دیہاڑے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے دیہاڑیاں؟ کیا ان کو شوکت خانم کے اکاؤنٹس سمجھا جائے؟ انہوں نے حکومت کی جانب سے حج پیکج 2019ء میں سبسڈی واپس لینے پر ٹویٹر پر اپنے ردعمل میں کہا کہ او بھائی! سبسڈی پر لعنت بھیجو، یہ بتاوکہ 280000 سے خرچہ 445000 تک کیسے پہنچا؟ دن دیہاڑے لوگوں کی آنکھوں کی سامنے دیہاڑیاں لگانے کے لئے تم نے انیل مسرت اور ذولفی بخاری پال رکھے ہیں اور توقع رکھتے ہوکہ اسے بھی شوکت خانم کے اکاونٹس سمجھا جائے؟
خیال رہے کہ وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2019ء کا اعلان کیا تھا۔

(جاری ہے)

جس کے تحت ملک کے شمالی علاقہ جات کے رہائشیوں کے لیے حج کی فی کس لاگت 4 لاکھ 36 ہزار 975 روپے ہوگی جبکہ جنوبی علاقے کراچی، کوئٹہ اور سکھر کیلئے 4 لاکھ 26 ہزار 975 روپے ہوگی۔ ان اخراجات میں قربانی کی لاگت شامل نہیں ہے۔ قربانی کے ساتھ یہ اخراجات 4 لاکھ 56 ہزار 426 روپے ہوں گے۔اس طرح گزشتہ سال کی حج پالیسی کے اخراجات 2 لاکھ 80 ہزار کے مقابلے میں حکومت نے رواں سال کی پالیسی میں 63 فیصد یعنی ایک لاکھ 76 ہزار 426 روپے اضافہ کیا ہے۔

وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے کا کہنا ہے کہ حج پر سبسڈی ختم کرنے کا انفرادی فیصلہ نہیں ہے بلکہ پوری کابینہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ حج وہی کرے گا جو حج کرنے کی استطاعت رکھتا۔ وزارت مذہبی امور کی خواہش تھی کہ حاجیوں کو سبسڈی دی جائے لیکن وزیراعظم اور کابینہ نے ہماری تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کا مطلب مفت حج کرانا نہیں بلکہ لوگوں کی فلاح وبہبود کیلئے کام کرنا اور لوگوں کو خوشحال بنانا ہے۔