خیبرپختونخواہ کا دہشتگردوں کی مالی معاونت کیخلاف بڑا فیصلہ

غیرقانونی خیراتی اداروں کیخلاف خیبرپختون خواچیرٹیزایکٹ منظور کیا جائے گا اورکمیشن بنایا جائے گا، غیرقانونی چندہ اکٹھے کرنے پر6 مہینے قید اور ایک لاکھ جرمانہ عائد کرنےکی تجویزدے دی گئی

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ فروری 18:30

خیبرپختونخواہ کا دہشتگردوں کی مالی معاونت کیخلاف بڑا فیصلہ
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 فروری 2019ء) خیبرپختونخواہ حکومت نے دہشتگردوں کومالی معاونت اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے بڑا فیصلہ کرلیا، غیرقانونی خیراتی اداروں کیخلاف خیبرپختون خواچیرٹیزایکٹ منظور کیا جائے گا، کمیشن بنایا جائے گا، غیرقانونی چندہ اکٹھے کرنے پر 6 مہینے قید اور ایک لاکھ جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق خیبرپختونخواہ میں خیبرپختون خواچیرٹیزایکٹ منظوری کیلئے آئندہ اسمبلی کے اجلاس میں پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

غیرقانونی خیراتی اداروں ، چندہ اکٹھا کرنے اور صدقات اکٹھا کرنے کو قانون کے دائرے میں لایا جائے گا۔ مجوزہ بل کے مطابق غیرقانونی طریقے سے چندہ اکٹھے کرنے پر 6 مہینے قید اور ایک لاکھ جرمانہ عائد کرنے کی تجویز پیش کی جائے گی۔

(جاری ہے)

اسی طرح خیراتی اداروں اور چندے کی روک تھام کیلئے کمیشن بھی تشکیل دیا جائے گا۔ کمیشن کو خیراتی اداروں کیخلاف انکوائری اورکاروائی کا اختیارحاصل ہوگا۔

اسی طرح گزشتہ روزخیبرپختونخوا کے محکمہ تعلیم نے ایک اور قابل ستائش کام کیا ہے۔ جس کے تحت خواتین اساتذہ سے کسی بھی مرد کلرک، افسر یا آفیشلز کی جانب سے رابطہ کرنے پر پابندی عائد کردی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق کے پی کے محکمہ ایلیمنٹری اور ثانوی تعلیم کی جانب سے اس پابندی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق خواتین اساتذہ سے کسی بھی دفتری امور کے لیے صرف خواتین آفیشلز اور خواتین اسٹاف ممبران ہی رابطہ کر سکتی ہیں۔

اس میں کہا گیا کہ محکمہ تعلیم کا کوئی بھی مرد افسر، کلرک یا کوئی بھی اسٹاف ممبر خواتین ٹیچر سے براہِ راست رابطہ نہیں کرسکتا۔اس کے علاوہ خواتین اساتذہ سے کسی بھی مسئلے پر بات کرنے کے لیے بذریعہ ٹیلیفون، واٹس ایپ یا موبائل پر رابطہ کرنے پر بھی پابندی عائد ہوگی۔نوٹیفکیشن میں خواتین اساتذہ سے رابطہ کرنے کے طریقہ کار کو واضح کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ خواتین اساتذہ سے کسی بھی قسم کی دفتری امور سے متعلق ضرورت پڑنے کی صورت میں خاتون ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر (ڈی ای او) کے ساتھ رابطہ کیا جائے گا۔