ماڈل ٹائون ،ساہیوال جیسے سانحات روکنے کیلئے پولیس ریفارمز ناگزیر ہیں‘ڈاکٹر طاہرالقادری

ایک خاندان کی طویل حکومت کی وجہ سے پنجاب پولیس پرائیویٹ ملیشیا کی طرح کام کرنیکی عادی ہو چکی پنجاب پولیس پروفیشنل انسٹیٹیوشن ہوتا تو سانحہ ماڈل ٹائون کا تصور بھی ناممکن تھا‘سربراہ پاکستان عوامی تحریک

ہفتہ فروری 18:58

ماڈل ٹائون ،ساہیوال جیسے سانحات روکنے کیلئے پولیس ریفارمز ناگزیر ہیں‘ڈاکٹر ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 فروری2019ء) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ ماڈل ٹائون اور ساہیوال جیسے سانحات کی روک تھام کے لیے پولیس ریفارمز ضروری ہیں، عوام کے جان و مال اور عزت نفس کی حفاظت کے لیے بلاتاخیر ریفارمز عمل میںآنی چاہئیں، پنجاب پولیس پر طویل عرصہ مالی مفادات رکھنے والے خاندان اور حکمرانوں کا تسلط رہا ہے، جس کی وجہ سے پنجاب پولیس ایک انسٹیٹیوشن سے زیادہ ایک پرائیویٹ ملیشیا کے طور پر کام کرنے کی عادی بن چکی ، کوئی جرم اس وقت تک اپنی جڑیں مضبوط نہیں کر سکتا جب تک اسے پولیس کے اندر بیٹھی ہوئی کالی بھیڑوںکی مکمل سرپرستی حاصل نہ ہو، پنجاب پولیس اگر عوام کے جان و مال کے تحفظ کا پروفیشنل ادارہ ہوتا تو سانحہ ماڈل ٹائون کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، آئوٹ آف ٹرن ترقیوں اور پسندیدہ ٹرانسفرز پوسٹنگز کیلئے بڑے بڑے عہدوں والے اپنے ضمیر کے برعکس فیصلے کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے، نو آبادیاتی انتظامی کلچر پر مشتمل پولیس کے نظام کو تبدیل نہ کیا گیا تو پھر کسی کی بھی جان ،مال اور عزت محفوظ نہیں رہے گی، اکثر واقعات میں انسانیت کے خلاف جرائم میں پولیس اور حکمران اکٹھے ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے غریب آدمی انصاف سے محروم ہو جاتا ہے، سانحہ ماڈل ٹائون اس کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے، جب تک سابق حکمران اقتدار میں رہے شہدائے ماڈل ٹائون کے مظلوم ورثاء کی کہیں کوئی شنوائی نہ ہوئی، وہ گزشتہ روز سنٹرل کور کمیٹی کے ممبران سے گفتگو کررہے تھے، دریں اثناء سربراہ عوامی تحریک نے سینیٹر رحمن ملک کی ہمشیرہ کے انتقال پر دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے، انہوں نے اپنے تعزیتی بیان میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی بخشش فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔