ماضی میں گیس کے نئے ذخائز کی تلاش نہیں کی گئی،گیس مہنگے داموں خرید کر سستی دی جاتی تھی، غلام سرور خان

ہم گیس کے پری پیڈ میٹر لگانے کا سوچ رہے ہیں ،سردی بڑھنے سے گیس کا استعمال بڑھ جاتا ہے ،نجی ٹی وی سے گفتگو

ہفتہ فروری 22:26

ماضی میں گیس کے نئے ذخائز کی تلاش نہیں کی گئی،گیس مہنگے داموں خرید کر ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 فروری2019ء) وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے کہا ہے کہ ماضی میں گیس کے نئے ذخائز کی تلاش نہیں کی گئی جبکہ گیس مہنگے داموں خرید کر سستی دی جاتی تھی ہم گیس کے پری پیڈ میٹر لگانے کا سوچ رہے ہیں سردی بڑھنے سے گیس کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔

(جاری ہے)

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے غلام سرور خان نے کہا ہے کہ گیس کے بلوں سے عوام پریشان ہیں پچھلی حکومت کی ناقص پالیسیوں کا خمیازہ ہمیں اور عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے ماضی میں گیس کے نئے ذخائز کی تلاش نہیں کی گئی گیس کی قیمتوں میںاضافے کی وجہ مہنگی گیس کا خریدا جانا تھا آئندہ سردیوں سے قبل ہی نئی گیس سسٹم میں داخل کر دی جائے گی ملک میں سالانہ 50 ارب روپے کی گیس چوری ہو ری ہے ہم گیس چوری روکنے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں ماضی میں گیس مہنگے داموں خرید کرسستی دی جاتی تھی انہوں نے کہا کہ سردی بڑھنے سے گیس کا استعمال بڑھ جاتا ہے گیزر کا استعمال آسائش ہے جبکہ چولہے کا استعمال ضرورت ہے۔

گیس چوری اور گیس کی لیکج روکنا حکومت کی زمہ داری ہے ہم گیس کے پری پیڈ میٹر لگانے کاسوچ رہے ہیں ہمیں فیصل آباد کی انڈسٹری کو بھی چلانا تھا اور 10 لاکھ بے روز گار افراد کو دوبارہ ملازمتوں پر لانا تھا۔