کلبھوشن یادیو کو پاکستان سے باہر بھیج دیے جانے کا تشویش ناک دعویٰ

بھارتی خفیہ ایجنسی را کے جاسوس کو نواز شریف نے ملک سے نکال دیا ہے، وہ پاکستان سے چلا گیا ہے: وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور

muhammad ali محمد علی بدھ فروری 19:57

کلبھوشن یادیو کو پاکستان سے باہر بھیج دیے جانے کا تشویش ناک دعویٰ
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔06فروری 2018ء) وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور کی جانب سے کلبھوشن یادیو کو پاکستان سے باہر بھیج دیے جانے کا تشویش ناک دعویٰ، وفاقی وزیر کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی را کے جاسوس کو نواز شریف نے ملک سے نکال دیا ہے، وہ پاکستان سے چلا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اور تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈا پور کی جانب سے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے تہلکہ خیز دعویٰ کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور نے بھارتی خفیہ ایجنسی کے جاسوس اور دہشت گرد کلبھوشن یادیو سے متعلق کہا ہے کہ وہ پاکستان سے جا چکا ہے۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے جاسوس کلبھوشن یادیو کو نواز شریف نے ملک سے نکال دیا ہے۔

(جاری ہے)

علی امین گنڈاپور کے اس انکشاف پر پروگرام کے اینکر ہکا بکا رہے گئے اور وفاقی وزیر سے اس معاملے پر مزید وضاحت مانگی۔

اس موقع پر علی امین گنڈاپور نے کہا کہ نواز شریف کے دور حکومت میں کلبھوشن یادیو کو محفوظ راستہ دیا گیا۔ حکمران جماعت تحریک انصاف کے رہنما علی امین  گنڈاپور نے مزید کہا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے سینے میں بہت سے راز دفن ہیں، اور شریف خاندان اسی بات سے خوفزدہ ہے، اسی لیے کلبھوشن یادیو کو محفوظ راستہ دینے کی کوشش کی گئی۔

علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ کلبھوشن یادیو سے کی جانے والی تحقیقات جاری ہیں، جلد ہی تمام حقائق سامنے آجائیں گے۔ واضح رہے کہ کلبھوشن یادیو بھارتی نیوی کا سرونگ افسر اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کا دہشت گرد جاسوس ہے۔ کلبھوشن یادیو پاکستان میں دہشت گردوں کا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ کلبھوشن یادیو کا دہشت گردوں کا نیٹ ورک پاکستان میں دہشت گردوں کی مختلف کاروائیوں میں ملوث رہا۔

تاہم پاک فوج اور آئی ایس آئی کی جانب سے 2016 میں زبردست انداز میں خفیہ آپریشن کے دوران بھارتی خفیہ ایجنٹ اور دہشت گرد کلبھوشن یادیو کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ دنیا بھر میں جاری رہنے والی سرد جنگوں کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب ایک سینئر افسر کی سطح کا جاسوس کسی ملک یا اس کی خفیہ ایجنسی کی جانب سے گرفتار کیا گیا۔ اب کلبھوشن یادیو کا معاملہ عالمی عدالت میں چل رہا ہے جس کی سماعت رواں ماہ میں ہی ہوگی۔