تھر پارکر میں خشک سالی کے خاتمے کیلئے تھرفائونڈیشن اور پارک (PARC)کے مابین معاہدہ

منصوبے کیلئے تھر فائونڈیشن کی جانب سے 20ایکڑ زمین فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پانی، بیج اور پودوں سمیت دیگر وسائل بھی فراہم کئے جائیں گے،مرتضیٰ رضوی

جمعرات فروری 16:19

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 فروری2019ء) تھر پارکر میں خشک سالی کے خاتمے کیلئے تھر فائونڈیشن اور پاکستان ایگری کلچر ریسرچ کائونسل(PARC) نے ایک معاہد ے پر دستخط کئے ہیں۔ معاہدے کے تحت علاقے میںفصلوں، سبزیوںاور پھلداردرختوںاور ترمیم شدہ بیجوں کو جدید آبپاشی نظام کے ذریعے بڑھایا جائے گا۔ علاقے میںکھارا پن کم کرنے اور کثیرجہتی تجارتی مقاصد کیلئے مویشیوں کی افزائش کے ساتھ ساتھ ہائیڈرو پونکس نظام کے تحت درختوںکی افزائش بھی کی جائے گی و اضع رہے کہ ہائیڈروپونکس(Hydroponics)کے نظام کے تحت لگائے جانے والے درختوں اور فصلوں کو کھاد اور مٹی کی ضرورت نہیں پڑتی۔

معاہدے پر تھر فائونڈیشن کے ڈائریکٹر مرتضیٰ رضوی اور پارک کے چیئرمین ڈاکٹریوسف ظفر نے دستخط کئے ۔

(جاری ہے)

معاہدہ مستقبل کے کسانوں کی ویلیو چین قائم کرنے ، خود مختاری کے ذریعے کسانوں کو بااختیار بنانے اور تھر بلاک۔IIمیںغذائی قلت دور کرنے اور غذائی صلاحیت کو بڑھانے میں ان کسانوں کومدد فراہم کرے گا۔ دونوں ادارے تھر بلاک ۔IIمیں کھارے پانی کی وجہ سے زمین کی تباہی کے تجزیئے اور اس کی اصلاحات کے اوپر بھی کام کریں گے۔

منصوبوں کی نگرانی کیلئے پارک کے سائنسدان باقائدہ دورے کرکے آگے بڑھنے کے بارے میں مشورے، نئی اقسام کے پودوں اور فصلوںاور دیگر تکنیکی معاملات پر مشورے فراہم کریں گے۔اس کے علاوہ پارک(PARC)تھر فائونڈیشن کی جانب سے شروع کئے گئے بائیو سلائن منصوبوں کی بھی نگرانی کرے گا ۔معاہدے کے تحت جانوروں کے فضلے کو کھاد اور ایندھن کے طور پر استعمال کرکے گھریلو بائیو گیس یونٹس نصف کرنے کے امکانات پر مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔

منصوبے کیلئے تھر فائونڈیشن کی جانب سے 20ایکڑ زمین فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پانی، بیج اور پودوں سمیت دیگر ضروری وسائل بھی فراہم کئے جائیں گے۔ تھر فائونڈیشن معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ منصوبے کیلئے فنڈز کی فراہمی اور نگرانی کو بھی یقینی بنائے گی۔ اس موقع پر پارک کے چیئر مین ڈاکٹر یوسف ظفر نے کہا کہ تھر کے علاقے میں خشک سالی کے خاتمے کیلئے ہمیں تھر فائونڈیشن کے ساتھ کی جانے والی شراکت داری پر فخر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم ارڈ زون ریسرچ انسٹیٹیوٹ عمر کوٹ(Arid Zone Research Institude) میں کئے جانے والے کامیاب منصوبوں کو تھر پارکر میں دوبارہ پیش کرنا چاہتے ہیں۔معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے تھر فائونڈیشن کے ڈائریکٹر مرتضیٰ رضوی نے کہا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق تھر پارکر میں زیرِ زمین 80ارب کیوبک فٹ پانی موجود ہے جس کو پمپ کرکے تھر پارکر کو ایک بہترین زرعی علاقے کے طور پر ڈیویلپ کیا جا سکتا ہے۔