ماحولیاتی تبدیلیوں سے انسان کی بقاءخطرے میں‘کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے سے شدید خطرات ہیں‘ماہرین

پاکستان متاثرہ ممالک کی فہرست میں8ویں نمبر پر ہے‘ ماحولیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو بھاری نقصان پہنچاہے. رپورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر فروری 11:48

ماحولیاتی تبدیلیوں سے انسان کی بقاءخطرے میں‘کرہ ارض کے درجہ حرارت ..
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔11 فروری۔2019ء) فطری ماحول کا تحفظ اور اس کی بقا اب دنیا بھر کے لوگوں کا مسئلہ بن چکا ہے‘ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے 7ارب انسانوں کے مسکن، کرہ ارض ، کی بقا اور سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں. کرہ ارض کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے پوری دنیا کو ہلادیا ہے جس کی وجہ سے کہیں سیلاب،طوفان ،زلزلے اور سونامی آرہے ہیںتو کہیں سردی اور گرمی کی شدت میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے،کہیں بارش اور برف باری کی شرح بہت بڑھ گئی ہے تو کہیں خشک سالی نے ڈیرے ڈال دیے ہیں.

گلوبل وارمنگ، خشک سالی، پانی کی کم یابی ،بڑھتا ہوا بنجر پن ، حیاتیاتی تنوّع میں کمی،بدلتے ہوئے موسمی حالات اور بعض جان دار اقسام کے خاتمے کی طرح کے سنجیدہ مسائل پوری دنیا کا مشترکہ مسئلہ ہیں. ماہرین ماحولیات کے مطابق بنی نوع انسان کے مستقبل کو خطر ے سے دو چار کرنے والے ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے قابل دوام ترقیاتی حکمت عملی بناتے وقت قدرتی ماحول کا تحفظ، شہری منصوبہ بندی، شجر کاری اور ماحولیاتی آلودگی کا سد باب کرنے والے منصوبو ں پر توجہ دینا بڑی اہمیت کا حامل ہے.

عالمی ماحولیاتی کانفرنس میںدوسوممالک کے ایک معاہدے پر متفق ہوئے ہیںپولینڈ کے جنوبی شہر کاٹوویسامیں منعقدہ عالمی ماحولیاتی کانفرنس” کوپ 24 “میں ایک نئے عالمی معاہدے کی کانفرنس کے آخری روز دو سو ممالک کے مندوبین نے منظوری دی. معاہدے میں2015 کی پیرس کلائمیٹ ڈیل پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر اتفاق کیا گیا‘معاہدے میں شامل ممالک ضرر رساں گیسز کا اخراج کم کرنے اور انہیں مانیٹر کرنے کے طریقہ کارپر متفق ہوئے‘ ڈیل کے مطابق غریب ممالک کو تحفظ ماحول کے منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی‘ماحولیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے باعث ہونے والے نقصانات کا ازالہ بھی کیا جائے گا.

عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں ہونے والے مذاکرات میں اگرچہ پاکستان کا کردارزیادہ اہم نہیں تھا اور نہ ہی پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کا سبب بننے والے مرکزی ممالک میں شامل ہے. تاہم دو دہائیوں سے ان ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں مسلسل ٹاپ ٹین ممالک کی فہرست میں ضرور موجود ہے‘ماحول کو نقصان پہنچانے والی ضرر رساں گیسز خارج کرنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان کا 135 واں نمبر ہے.

تاہم متاثرہ ممالک میں پاکستان 8ویں نمبر پر ہے‘ ماحولیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو بھاری نقصان پہنچاہے اور اس ضمن میں سب سے زیادہ اقتصادی نقصان اٹھانے والے ملکوں میں پاکستان دوسرے نمبرپرہے‘ماہرین کے مطابق پاکستان کو تین اہم ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے. پاکستان میں قومی خزانے سے 120 ملین ڈالرز خرچ کرکے ”بلین ٹری سونا می ‘ ‘ نامی منصوبے کے تحت ایک ارب درخت لگائے گئے.

اب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے پانچ برسوں میں ملک بھر میں مزید دس ارب درخت لگانے کا اعلان کیا ہے جس پر تقریبا ایک ارب امریکی ڈالرزخرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے. ایک جانب ہم ماحولیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے سنگین مسائل کا شکار ہیں اور دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی نے خبردار کیا ہے کہ 2025 تک پاکستان میں پانی کی قلت بحران کی شکل اختیار کرلے گی.

اس ضمن میں وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی،ملک امین کاکہنا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ”ری چارج پاکستان“ کے نام سے ایک منصوبہ متعارف کرائے گی‘اس منصوبے کے ذریعے سیلاب کاپانی ملک کی مختلف جھیلوں میں محفوظ کیا جائے گا. وفاقی حکومت تمام صوبوں کی مشاورت اور رضامندی کے بعد ہی ری چار ج پاکستان اور”کلین گرین پاکستان“ جیسے منصوبوں پر عمل درآمد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ‘ماہرین ماحولیات کافی عرصے سے ہمارے اربابِ اختیار کو یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ آج اقتصادی ترقی کی بنیادیں وسیع کرنے کے لیے ماحولیاتی تبدیلیوں کامقابلہ کرنابھی بہت ضروری ہے.

پاکستان سنجیدہ اقتصادی مسائل سے دوچار ہے جن کے حل کے ضمن میں کی جانے والی کوششوںکی راہ میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات مزید مشکلات پیدا کر رہے ہیں. لہٰذا موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے حکومت کو مجموعی قومی پیداوار( جی ڈی پی) کا6 سے8 فی صدان تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے خرچ کرنا پڑتا ہے. کانفرنس میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ پانچ برسوں میں اس وسیع برفانی علاقے کی برف پگھلنے کی رفتار ماضی کے مقابلے میں تین گنا سے زائد ہو گئی ہے‘برف پگھلنے سے سمندرکی سطح مجموعی طور پر 7.6 ملی میٹر بلند ہو گئی ہے اور2012 کے بعد سمندرکی سطح تقریباً تین میٹر بلند ہوئی ہے.

قطب شمالی کو شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے‘ رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ براعظم انٹارکٹیکا 2012 تک سالانہ بنیاد پر76 بلین ٹن برف سے محروم ہو رہاہے. اس برف کے پانی بننے سے اوسطاً سالانہ بنیاد پر0.2 ملی میٹر سمندر کی سطح بلند ہو رہی تھی‘ لیکن چھ برسوں میں مجموعی صورت حال تبدیل ہو گئی ہے‘2012 کے بعد سے اِس برفانی براعظم میں برف پگھلنے کی رفتار میں تین گنا اضافہ ہوا اور سالانہ بنیاد پر پگھلنے والی برف کا حجم 219 بلین ٹن ہو گیا ہے.

اتنی کثیر مقدارمیں پگھلنے والی برف سے سمندرکی سطح 0.6 فی صد سالانہ بنیاد پر بلند ہو چکی ہے‘یہاں یہ بات اہم ہے کہ قطب جنوبی پر پھیلی ہوئی برفانی چادرکی سطح میں پائی جانے والی کمی ایک طرح سے ماحولیات کی تبدیلی کا پیمانہ بن چکی ہے. گرمی کی شدت سے متاثر ہونے والوں میں 1.1 ارب سے زاید پس ماندہ افراد کا تعلق براعظم ایشیاسے ہے‘ لاطینی امریکا کے دیہات کے 430 ملین اور کچی بستیوں میں 630 ملین افراد کو گرم ہوتے ہوئے موسم کا سامناہے.

واضح رہے کہ دنیا کی کل آبادی 7.6 ملین نفوس پر مشتمل ہے‘ ان ممالک میں سارک خطے کے ممالک، پاکستان، بھارت اور بنگلا دیش بھی شامل ہیں‘ علاوہ ازیں چین، موزمبیق، سوڈان، نائجیریا، برازیل اور انڈونیشیا جیسے ممالک کو بھی سروے میں شامل کیا گیاتھا. رپورٹ میں واضح کیا گیا تھاکہ ان باون ملکوں کے غریب اور بنیادی سہولتوںسے محروم طبقے کو راحت دینے کے لیے ”کولنگ“ فراہم کرنا ضروری ہے۔

(جاری ہے)

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت کا کہنا ہے کہ جس رفتار سے موسمی حدت بڑھ رہی ہے، یہ سالانہ بنیاد پر2030 اور 2050 کے درمیان معمول سے38 ہزار سے زیادہ ہلاکتوں کا سبب بن سکتی ہے.

2017 ہی میں امریکاکے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاریخی پیرس کلائمیٹ ڈیل سے علیحدگی اختیار کی تھی جبکہ امریکا کو چین کے بعد زمینی ماحول آلودہ کرنے والا دوسرا بڑا ملک قرار دیا جاتا ہے. تین سو صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ امریکی موسمیاتی سوسائٹی اور سمندر اور فضا سے متعلق امریکا کی قومی انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی تھی. رپورٹ میں ضرر رساں یا سبز مکانی گیسوں کے اخراج میں غیرمعمولی اضافے کی نشان دہی تو کی گئی،لیکن یہ واضح نہیں کیا گیاتھا کہ یہ گیسزخارج کرنے والے بڑے ممالک کون کون سے ہیں.