ایرانی جوہری سائنس دان موساد کی مدد سے منحرف ہو گیا ، برطانوی اخبار کا دعویٰ

منحرف سائنس دان ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں بھرپور معلومات رکھتا ہے،رپورٹ

پیر فروری 16:33

لندن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 فروری2019ء) برطانوی اخبارنے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی جوہری سائنس دان موساد کی مدد سے منحرف ہو گیا ہے۔برطانوی اخبار کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے عناصر نے اکتوبر 2018 میں ایران کے جوہری طبیعیات کے ایک سائنس داں کو حکمراں نظام سے منحرف کرنے میں اس کی مدد کی۔ اس 47 سالہ سائنس دان کو سرحد کے راستے ترکی پہنچایا گیا جہاں سے اس کا بطور پناہ گزین سفر شروع ہو گیا۔

سائنس دان 4800 کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے فرانس کے شمالی شہرکے نزدیک واقع ساحل پہنچا۔ یہ شہر پناہ گزینوں کے ایک بڑے کیمپ کے حوالے سے جانا جاتا ہے جہاں پر مختلف شہریتوں کے حامل افراد موجود ہیں۔مذکورہ کیمپ میں اسے برطانوی انٹیلی جنس ادارے ایم آئی سیکس کے حوالے کر دیا گیا۔

(جاری ہے)

یہاں امریکی سی آئی ای کے ساتھ رابطہ کاری سے اس کا پناہ گزین کا درجہ باقی رہا۔

بعد ازاں وہ 12 ایرانیوں کے ساتھ ایک ربڑ کی کشتی کے ذریعے 31 دسمبر کی رات برطانیہ کی جنوب مشرقی کانٹیکے ایک قصبے پہنچا دیا گیا۔منحرف سائنس دان ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں بھرپور معلومات رکھتا ہے۔ اخبار کے مطابق 2012 میں ایران کے ایک سینئر جوہری سائنس دان اور ماہر مصطفی احمدی روشن کی ہلاکت میں ممکنہ طور پر اس منحرف سائنس دان کا ہاتھ تھا۔

روشن ایرانی دارالحکومت تہران میں بم دھماکے میں اپنے ڈرائیور کے ساتھ ہلاک ہو گیا تھا۔برطانوی اخبار نے اس خبر کے ذریعے کے بارے میں نہیں بتایا۔ البتہ اخبار کا کہنا تھا کہ برطانیہ نے منحرف ایرانی سائنس دان کے ساتھ پوچھ گچھ کی اور پھر اسے امریکا کے حوالے کر دیا۔ برطانیہ نے امریکی سی آئی اے اور اسرائیلی موساد کے تعاون کا سہارا لیتے ہوئے جاسوسی اور لوجسٹک کارروائی انجام دینے کے لیے معمول کے خلاف طریقے پر انحصار کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ برطانیہ اس بات کا خواہش مند تھا کہ تہران کے سامنے اس بات کا انکشاف نہ ہو کہ لندن اس معاملے میں براہ راست ملوث ہے کیوں کہ وہ ابھی تک ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔