لاہور ہائیکورٹ: حمزہ شہبازکے لندن قیام میں 14روز کی توسیع

حمزہ شہبازشریف نے بیمار بیٹی کے علاج کیلئے لندن قیام میں توسیع کی درخواست کی تھی، حمزہ شہبازعدالت کا عدالت نے ای سی ایل سے نام نکال کرانہیں لندن جانے کی اجازت دی تھی

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ پیر فروری 15:46

لاہور ہائیکورٹ: حمزہ شہبازکے لندن قیام میں 14روز کی توسیع
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 فروری2019ء) لاہور ہائیکورٹ نے اپوزیشن لیڈرپنجاب اسمبلی حمزہ شہبازکی درخواست منظور کرلی، عدالت نے حمزہ شہبازکو لندن قیام میں 14روز کی توسیع دے دی، حمزہ شہبازعدالت کا عدالت نے ای سی ایل سے نام نکال کرانہیں لندن جانے کی اجازت دی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنماء اور اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہبازنے لاہور ہائیکورٹ میں لندن میں مزید قیام بڑھانے کی درخواست دائر کی ۔

جس پر عدالت نے ان کی درواست منظور کرتے ہوئے ان کے لندن قیام میں 14روز کی توسیع دے دی۔ حمزہ شہبازنے اپنے وکیل کے ذریعے عدالت کو بتایا کہ میری بیٹی بیمار ہے مجھے لندن میں مزید قیام کی اجازت دی جائے۔عدالت نے ان کی استدعا قبول کرلی ہے۔ اس موقع پروفاقی حکومت کے وکیل نے قیام میں توسیع کی مخالفت کی۔

(جاری ہے)

خیال رہے حمزہ شہباز کی درخواست پر لاہو رہائیکورٹ نے انہیں ایک مرتبہ دس روز کیلئے بیرون ملک سفر کی اجازت دیتے ہوئے ان کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کا حکم دیا تھا۔

حمزہ شہباز 3فروری کو لندن روانہ ہوئے اور انہوں نے 13فروری کو وطن واپس آنا تھا ۔حمزہ شہباز کی اہلیہ کے ہاں لندن میں بیٹی کی پیدائش ہوئی ہے بچی کو عارضہ قلب کی تشخیص ہوئی ہے اور ڈاکٹروں کی جانب سے فوری آپریشن کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔ حمزہ شہباز نے اپنی نو مولود بچی کے علاج کے سلسلہ میں لندن میں مزید 15روز قیام کا فیصلہ کیا ہے ۔حمزہ شہباز نے اپنے وکیل اعظم نذیر تارڑ کے توسط سے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے جس میں موقف اپنایا گیا کہ نومولود بیٹی کی لندن میں ہارٹ سرجری ہے۔

استدعا ہے کہ مزید 15 روز لندن میں قیام کی اجازت دے۔ وکیل نے موقف اپنایا کہ بیٹی کی صحتیابی کے بعد حمزہ شہباز فوری وطن واپس آجائیں گے۔ یاد رہے کہ عدالت کی اجازت کے بعد 3 فروری 2019 کو حمزہ شہباز نجی دورے پر برطانیہ چلے گئے تھے. اس سے قبل 11 دسمبر 2018 کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز کو قطر ایئر لائن کی پرواز کے ذریعے دوحہ جانے سے روک دیا تھا. 15 جنوری 2019 کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز نے حکومت کی جانب سے ان کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس پر عدالت نے انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی تھی. خیال رہے کہ عدالت نے حمزہ شہباز کو 10 دن کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی اور وہ ان دنوں لندن میں موجود ہیں. حمزہ شہباز کی درخواست میں وفاقی حکومت اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے