آئل اینڈ گیس کمپنیز میں مقامی افراد کو روزگار نہ دینے کا معاملہ ،چیف سیکریٹری سندھ نے فنڈز کے استعمال کی یقین دہانی کرادی

پیر فروری 17:43

آئل اینڈ گیس کمپنیز میں مقامی افراد کو روزگار نہ دینے کا معاملہ ،چیف ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 فروری2019ء) سندھ ہائی کورٹ میں آئل اینڈ گیس کمپنیز کی جانب سے مقامی سطح پر روزگار نہ ملنے اور عوامی مفاد کے کام نہ کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ،چیف سیکریٹری سندھ نے فنڈز کے استعمال کی یقین دہانی کرادی ۔پیر کو سندھ ہائی کورٹ میں آئل اینڈ گیس کمپنیز کی جانب سے مفاد عامہ سے متعلق فنڈز کیس کی سماعت ہوئی سماعت کے موقع پر چیف سیکریٹری سندھ ممتاز علی شاہ ڈائریکٹر جنرل پیٹرولیم اینڈ کنسیشن عدالت میں پیش ہوئے، گذشتہ چھ برس کے دوران چیف سیکریٹری کے عہدے پر تعینات رہنے والے افسران کے ناموں اور ڈی جی پی سی کی جانب سے سندھ کو فراہم کی گئی۔

فنڈز کی تفصیلات بھی عدالت میں پیش کی گئی ڈی جی پی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ چھ برس میں سندھ کو پانچ ارب سے زائد کی رقم فراہم کی گئی عدالت نے چیف سیکرٹری سے استفسار کیا کہ جو فنڈز فراہم کئے گئے انکا استعمال کیوں نہیں کیا گیا فنڈز کے عدم استعمال پر عدالت کا سندھ حکومت پر اظہار برہمی کیا گیا جس پرچیف سیکریٹری سندھ کی جانب سے فنڈز استعمال نہ کرنے پر معذرت کرلی گئی ، چیف سیکریٹری سندھ نے فنڈز کے استعمال کی یقین دہانی بھی کرائی ۔

(جاری ہے)

ڈی جی آڈٹ سندھ عدالت میں پیش ہوئے۔ ڈی جی آڈٹ سندھ کی جانب سے فنڈز کے آڈٹ سے متعلق مہلت طلب کرلی گئی ۔ڈی جی آڈٹ کا کہنا تھا کہ میں آج ہی چارج لیا ہے مہلت درکار ہے،گذشتہ سماعت پر عدالت نے وفاق سے سندھ کو آئل اینڈ گیس کمپنیز کی جان سے ملنے والی رقم کی آڈٹ کا حکم دیا تھا۔ سندھ حکومت کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سندھ میں گیس کے 87 چھوٹے بڑے ذخائر ہیں ،سندھ میں گیس فیلڈ کے پانچ کلو میٹر ایریا میں 2184 دیہات ہیں،اب تک صرف 82 دیہاتوں کو گیس فراہم کی گئی ہیںاب بھی 2102 دیہات کو ابھی تک گیس فراہم نہیں کی جاسکی ،سندھ حکومت کو سات ارب 90 کروڑ روپے کے فنڈز موصول ہوئے ہیں،58 فی صد فنڈ استعمال کیا جا چکا ہے،درخواست گزار کا کہنا تھا کہ آئل اینڈ گیس کمپنیز کی طرف پانچ سو ارب روپے واجب الادا ہیں ۔