ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن اصغر خان کیس میں اپنے باس نواز شریف کو بچانے کیلئے کوشاں ‘ سپریم کورٹ نے بالآخر ارادے بھانپ لئے

پیر فروری 22:46

ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن اصغر خان کیس میں اپنے باس نواز شریف کو بچانے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 فروری2019ء) ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن اصغر خان کیس میں اپنے باس نواز شریف کو بچانے کیلئے بھرپور کوشش کررہے ہین لیکن اس دفعہ سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کے ارادے بھانپ لئے اور پوچھ لیا کہ ایف آئی اے کیوں اس کیس سے ہاتھ اٹھانا چاہتی ہے لیکن اس کیس میں ایف آئی اے کا کردار اور تحقیقات مثالی ہونا چاہیے تھا لیکن ایسے لگتا ہے کہ ایف ائی اے اصغر خان کیس سے ہاتھ اٹھانا چاہتی ہے اصغر خان کیس میں سب سے زیادہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی شہرت کو نقصان پہنچا ہے کیونکہ سابق وزیراعظم کے حوالے سے سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے اپنے بیان حلفی میں یہ کہا تھاکہ میں نے اپنی ذاتی حیثیت مین اور اپنے چیف آف سٹاف جنرل اسلم بیگ کی ایما پر پیسے تقسیم کئے تھے جبکہ میں نیخود پچیس لاکھ روپے نواز شریف کو دیئے تھے اس کے بعد کوئی شک باقی نہیں رہا تھاک ہ نواز شریف نے پیسے نہیں لئے تھے۔

(جاری ہے)

دی جی ایف آئی اے بشیر میمن کیوں اصغر خان کیس بند کرنا چاہتے ہین اسکی وجہ یہ ہے کہ ذوالفقار چیمہ نے جب بشیر میمن ڈی جی ایف آئی اے لگوانے کیلئے مریم نواز اور نواز شریف کے پاس لے کر گئے تھے تو اس وقت ان سے وعدہ لیا گیا تھا کہ مسلم لیگ کی حکومت اور خاص کر نواز شریف کے اس کیس یعنی اصغر خان کیس کو بشیر میمن بند کریں گے کیونکہ اس کیس میں سب سے زیادہ متاثر نواز شریف کی شہرت کو کیا ہے جبکہ ممکنہ طور پر نواز شریف اس اصغر خان کیس مین تاحیات نااہل بھی ہوسکتے ہیں اسی لئے بشیر میمن سے یہ وعدہ لیا گیا تھا کہ آپ کو ڈی جی ایف ائی اے اسی صورت میں لگایا جاسکتا ہے کہ آپ خاص طور اصغر خان اور عام طور باقی باقی وہ تمام کیس جو نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کے حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ادارے میں چل رہے ہیں ان کو بند کیا جائے گا جبکہ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اپنے نواز شریف کے ساتھ کئے گئے وعدے کو بھرپور نبھا رہے ہیں لیکن اس دفعہ سپریم کورٹ نے ان کے ارادے بھانتے ہوئے کہا کہ کیا وجوہات ہوسکتی ہیں کہایف آئی اے اصغر خان کیس سے ہاتھ اٹھانا چاہتی ہے حالانکہ کیس بالکل ثابت ہے جبکہ اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی حلفیہ بیان میں کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے چیف آف سٹاف جنرل اسلم بیگ اور اس وقت صدر غلام اسحاق کے نوٹس میں لاتے ہوئے سیسدانوں میں پیسے تقسیم کئے تھے جبکہ انہوں نے میاں نواز شریف کو پچیس لاکھ روپے نقد ادائیگی بھی کی تھی اس حلفیہ بیان کے بعد اور دوسرے اہم ثبوتوں اور گواہوں کی موجودگی میں وہ کون سی وجوہات ہیں کہ ایف آئی اے اصغر خان کیس کو منطقی انجام تک نہیں پہنچانا چاہتی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اصغر خان کیس بند کرکے بشیر میمن اپنا کیا گیا وعدہ نواز شریف سے نبھانا چاہتے ہیں وہ وعدہ جس کی وجہ سے انہیں ڈائریکٹر جنرل وفاقی تحقیقاتی ادارہ لگایا گیا تھا۔