میںنے ایسا کوئی اختیار استعمال نہیں کیا جس سے وزیر اعلیٰ کے اختیار پر اثر پڑا ہو، شاہ فرمان

ایسا ہوا تو میں استعفیٰ دے دوں گا، آئی جی اور چیف سیکرٹری کے تبادلے معمول کے مطابق ہیں ان تبادلوں کی منظوری وزیر اعلیٰ کے پی کے محمود خان نے دی ہے،گورنر خیبر پختونخوا کا انٹرویو

پیر فروری 23:00

میںنے ایسا کوئی اختیار استعمال نہیں کیا جس سے وزیر اعلیٰ کے اختیار ..
پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 فروری2019ء) گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے کہا ہے کہ میںنے ایسا کوئی اختیار استعمال نہیں کیا جس سے وزیر اعلیٰ کے اختیار پر اثر پڑا ہو اگر ایسا ہوا تو میں استعفیٰ دے دوں گا۔ آئی جی اور چیف سیکرٹری کے تبادلے معمول کے مطابق ہیں ان تبادلوں کی منظوری وزیر اعلیٰ کے پی کے محمود خان نے دی ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ فرمان نے کہا کہ آئی جی کی تبیلی معمول کی بات ہے یہ اختیار وزیر اعلیٰ کے پاس ہوتا ہے اگر یہ غیر قانونی ہے تو پھربات کی جائے ۔

موجودہ چیف سیکرٹری کا تعلق قبائلی علاقے سے ہے اور یہ بہت تجربہ کار آفیسر ہیں۔ انہی بنیادوں پر تعیناتیاں اور تبادلے کیے جاتے ہیں۔ آئی جی اور چیف سیکرٹی کی تبدیلی پر کوئی ناراض نہیں ہے۔

(جاری ہے)

فاٹا انضمام کیلئے تجربہ کار آفیسرز زیادہ مدد گار ثابت ہونگے۔ 2016کے پولیس ایکٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ کے پاس تعیناتیوں یا تبادلے کا بھی اختیار نہین ہے ۔

سابق چیف سیکرٹری نے بھی بہت کام کیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ لیویز اور خاصہ دار فورس کی پولیس میں شمولیت کے معاملے پر سب متفق ہیں سابقہ فاٹا میں 28ہزار کے قریب خاصہ دار اور لیویز کے اہلکار موجود ہیں۔ ان کو ایک لمحے میں فارغ نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر یہ معاملہ عدالت میں بھی جائے تو عدالت یہی کہے گی کہ ان کو ایڈجسٹ کیا جائے۔ جمعہ کو وزیراعلیٰ کے پی کے نے عدلیہ کے افسران کی فاٹا کے اضلاع میں تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔

عدلیہ کے ساتھ پولیس فاٹا اضلاع میں جائے گی اور لیویز ان کے ساتھ کام کرے گی ۔ عدلیہ کو فنکشنل کرنے کیلئے پولیس کی ضرورت ہوتی ہے ، لیویز ڈپٹی کمشنر کے نیچے کام نہیں کرے گی بلکہ ڈی آئی ج کے ماتحت کام کرے گی ۔ شاہ فرماننے کہا کہ ابھی ہونے والے دو تبادلوں کی منظوری وزیر اعلیٰ نے دی ہے ۔حکومت کو ایڈوائس کرنا غلط نہیں ہے میں ایسا کرتا رہوں گا ۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے محمود خان سے پوچھ لیں کہ میں نے ایسا کوئی اختیار استعمال کیا ہے جس سے وزیر اعلیٰ کے اختیارات میں اثر پڑا ہو اگر وہ کہ دیں کہ ایسا ہوا ہے تو میں اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائوں گا۔