ملیے دنیا کے واحد ایک ہاتھ کے پیشہ ور باکسر واگیلس کازیس سے

پیر فروری 23:44

ملیے  دنیا کے واحد ایک ہاتھ کے پیشہ ور باکسر واگیلس کازیس سے
واگیلس کازیس  کی کہانی بہت سے لوگوں کو ایک کمزور انسان کی کہانی لگتی ہے۔ وہ ابھی بچے ہی تھے کہ  اُن کا دایاں  ہاتھ ہتھیلی سے کاٹ دیا گیا۔ اس ہم ترین کمزوری کے باوجود  واگیلس کازیس   بڑے  ہو کر  پیشہ ور باکسر بنے۔ وہ دنیا کے واحد باکسر ہیں، جو ایک ہاتھ سے ہی  دونوں ہاتھ استعمال کرنے والے مخالف کا مقابلہ کرتے ہیں۔
واگیلس کازیس جب پیدا ہوئے تو اُن کے دائیں ہاتھ میں سرطان زدہ رسولی تھی۔

اگر ڈاکٹر اُن کے ہاتھ کو کاٹنے کا فیصلہ نہ کرتے تو اس رسولی نے اُن کی زندگی کا خاتمہ کر دینا تھا ۔ اُس وقت اُن کی عمر صرف 3 ماہ تھی۔ اس کے بعد یونان سےتعلق رکھنے والے واگیلس کازیس کی زندگی بائیں ہاتھ  پر انحصار کرتے ہوئے گزرنے لگی۔ ایک ہاتھ کے باعث انہیں بچپن میں ساتھی بچوں کے مذاق کا نشانہ بھی بننا پڑا۔

(جاری ہے)

دوسرے بچے اُن کے تین  انگلیوں کے پلاسٹک کے ہاتھ کا مذاق اڑاتے  اور اُنہیں کیپٹن ہُک کے نام سے بلاتے۔

ایسے ماحول میں پرورش پانے کی وجہ سے اُن میں غصہ بڑھتا گیا۔ اِس غصے کے باعث وہ مشکل میں بھی پڑ جاتے۔ وہ غلط صحبت میں پڑ کر شراب پینے لگے۔ اُن کی راتیں پارٹیوں میں اور لڑائی جھگڑا کرتے گزرتیں۔ لیکن جب انہوں نے باکسنگ شروع کی تو انہیں اس کھیل سے عشق ہوگیا۔
واگیلس کازیس نے ایک جم میں باکسنگ کے پہلے تجربے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا”یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ کسی بہت حسین عورت کو  ایک بار دیکھتے ہیں اور فوراً ہی اس  کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں“
واگیلس کازیس دس سال پہلے  اپنے دوسرے بڑے جنون، باورچی بننے ، کے لیے برطانیہ منتقل ہوئے۔

یہاں اُن کی ملاقات اُن کے پہلے کوچ ٹونی لانگ سے ہوئی۔ ٹونی ایک باکسنگ جم کے مالک ہیں۔ انہوں نے ہی واگیلس کازیس کو اپنے جم میں بلا کر ایک بار باکسنگ کا تجربہ کرنے کا کہا۔ واگیلس کازیس اس سے پہلے ٹی وی پر بڑے شوق سے باکسنگ دیکھتےتھے لیکن انہوں نے تصور میں بھی خود باکسنگ نہیں کی تھی۔ لیکن جیسے  ہی انہوں نے ایک بار باکسنگ شروع کی،وہ اسی کے ہو کر رہ گئے۔


واگیلس کازیس اگرچہ ایک ہاتھ سےمحروم تھے  لیکن اُن کے ٹرینر اُن کے چھوٹے ہاتھ پر ایک دستانہ پہنانے کے قابل ہوگئے، جس سے وہ دونوں ہاتھوں سے مکامارنا لگے۔ واگیلس کازیس نے غیر روایتی باکسنگ سٹائل ، ساؤتھ پا،  اپنایا۔
دنیا کے واحد ایک ہاتھ کے باکسر بننے کے لے لیے واگیلس کازیس کو کئی مشکلات پیش آئیں۔ انہیں کاغذی کاروائی کے لیے طبی بورڈ کے سامنے پیش ہونا پڑا۔

انہوں نے تمام مشکلات کا سامنا کیا اور 2015 میں  ایتھنز میں 3 ہزار لوگوں اور اپنے گھر والوں  کے سامنے   ہونے والے مقابلے سے اپنے پیشہ ور باکسنگ کیرئیر کا آغاز کیا۔ یہ مقابلہ جیت کر انہوں نے تاریخ رقم کر دی۔ واگیلس کازیس اپنا دوسرا مقابلہ ہار گئے۔ زخمی ہونے کی وجہ سے وہ ڈھائی سال تک اکھاڑے سے دور رہے۔  واگیلس کازیس  نے اس عرصے میں اپنی تربیت جاری رکھی اور دسمبر 2018 میں پھر سے اکھاڑے میں اتر گئے۔

اس مقابلے میں انہوں نے سربو-بوسنیین باکسر میکر زدرادو کو شکست دی۔واگیلس کازیس اب لاس اینجلس جا کر  مزید تربیت کے بعد  اپنے کیریئر کو نئی بلندیوں تک لےجانا چاہتے ہیں۔
واگیلس کازیس ابھی  ایتھنز میں نہ صرف اپنی تربیت حاصل کر رہے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی باکسنگ کی تربیت دیتے ہیں۔ وہ جن افراد کو باکسنگ کی تربیت دے رہے ہیں،ا ُن میں معذور افراد بھی شامل ہیں۔واگیلس کازیس کو امید ہے کہ  اُن کی  کہانی دوسروں کو بھی متاثر کرے گی اور وہ بھی اپنے خوابوں کو پورا کریں گے۔