سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم کو دس سال بعد بری کردیا

استغاثہ مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہا‘ عدالت کے ریمارکس

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل فروری 13:46

سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم کو دس سال بعد بری کردیا
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔12 فروری۔2019ء) سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم اسفندیار کو دس سال بعد بری کردیا ہے. چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی‘عدالت نے ریمارکس دیئے کہ استغاثہ مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہا اس لیے ملزم کو بری کیا جاتا ہے،مجسٹریٹ نے شناخت پریڈ درست نہیں کی اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے.

سپریم کورٹ نے مجسٹریٹ کنور انوار علی کو 22 فروری کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے‘چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ ایسے کیس دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے،ایسا سلوک کیوں کیا جاتا ہے،ایک بچہ قتل ہو گیا،غلط شناخت پریڈ اورقانونی تقاضے پورے نہ ہونے کی وجہ سے ملزم کو سزا ہو گئی.

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے کہا کہ جنہیں قانون پر عمل کرنا ہے ان سے پوچھنا تو چاہیے،کیا مجسٹریٹ لگانے سے پہلے ان کی ٹریننگ نہیں ہوتی‘وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مجسٹریٹ کو تعیناتی کے پہلے کورسز کرائے جاتے ہیں.

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم عدالتی قانون سے ہٹ کر فیصلہ نہیں دے سکتے،ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے قانون کو کیوں نہیں دیکھا،یہ ملک ہمارا ہے اس میں ہمارے بچوں کو رہنا ہے،کسی کو تو شروعات کرنی ہے،ہم روز قتل کیسز میں دیکھتے ہیں پولیس اصل ملزم تک پہنچ جاتی ہے. چیف جسٹس نے برہم ہو کر کہا کہ ملزم اصلی اور شہادتیں سب نقلی ہوتی ہیں،اگر ہم بھی آنکھیں بند کر دیں تو قانون کدھر جائے گا،ایسا لگتا ہے ملزم گرفتار ہوا پھر شہادتیں بنائی گئیں.

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم عدالتی قانون سے ہٹ کر فیصلہ نہیں دے سکتے،ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے قانون کو کیوں نہیں دیکھا،یہ ملک ہمارا ہے اس میں ہمارے بچوں کو رہنا ہے،کسی کو تو شروعات کرنی ہے،ہم روز قتل کیسز میں دیکھتے ہیں پولیس اصل ملزم تک پہنچ جاتی ہے. چیف جسٹس نے برہم ہو کر کہا کہ ملزم اصلی اور شہادتیں سب نقلی ہوتی ہیں،اگر ہم بھی آنکھیں بند کر دیں تو قانون کدھر جائے گا،ایسا لگتا ہے ملزم گرفتار ہوا پھر شہادتیں بنائی گئیں.