العزیزیہ ملز ریفرنس:ہائیکورٹ میں نوازشریف کی متفرق درخواستوں پر سماعت

مجرم طبی بنیادوں پر ضمانت کے حق دارنہیں، میڈیکل گراﺅنڈ پرضمانت نہیں دی جاسکتی ،درخواست ضمانت مسترد کردی جائے. نیب کی استدعا

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل فروری 13:58

العزیزیہ ملز ریفرنس:ہائیکورٹ میں نوازشریف کی متفرق درخواستوں پر سماعت
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔12 فروری۔2019ء) اسلام آباد ہائیکورٹ میں العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی متفرق درخواستوں کی سماعت جاری ہے. اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامرفاروق اورجسٹس محسن اخترکیانی پرمشتمل ڈویژنل بینچ العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں نوازشریف کی متفرق درخواستوں کی سماعت کررہا ہے.

نیب نے نواز شریف کی درخواست ضمانت پرجواب جمع کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ گرفتارمجرم نواز شریف طبی بنیادوں پر ضمانت کے حق دارنہیں، میڈیکل گراﺅنڈ پرضمانت نہیں دی جاسکتی ،درخواست ضمانت مسترد کردی جائے.

(جاری ہے)

گزشتہ روزنوازشریف کی سزا معطلی سے متعلق پہلی درخواست کی سماعت میں بینچ نے نیب سے جواب طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ درخواست واپس لینا درخواست گزار کا استحقاق ہے.

نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے صرف طبی بنیادوں پردائرسزا معطلی کی درخواست کی پیروی کرنے کی استدعا کررکھی ہے. یادرہے کہ نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے دی گئی 7 سال قید اور جرمانوں کی سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے اور استدعا کی ہے کہ سزا معطل کرتے ہوئے رہائی کے احکامات جاری کیے جائیں. نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے جمع کروائی گئی اس 61 صفحات پر مشتمل اپیل میں دعویٰ کیا گیا کہ معزز عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کا فیصلہ قانون کی غلط تشریحات اور غلط فہمیوں کی بنیاد پر کیا.

احتساب عدالت نے 6 جولائی 2018 کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو 10 سال، مریم نواز کو 7 اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایک ایک سال قید کی سزا سنائی تھی. بعد ازاں تینوں مجرمان نے اپنی سزاﺅں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کی تھیں جس پر کئی سماعتوں کے بعد 19 ستمبر 2018 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزاﺅں کو معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا تھا. ایون فیلڈ ریفرنس کی سزا معطلی کے بعد العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کی طویل سماعتیں احتساب عدالت میں ہوئی تھیں اور 19 دسمبر 2018 کو جج ارشد ملک نے دونوں ریفرنسز پر فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے 24 دسمبر کو سنایا گیا.