پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے آڈٹ نہ کروانے والے کارپوریٹ سیکٹر کی فہرست طلب کرلی

کئی ادارے آڈٹ سے انکار کر دیتے ہیں ،ہمارے اختیارات میں کسی بھی جرم کی نشاندہی یا ذمہ داری عائد کرنا نہیں

منگل فروری 15:10

پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے آڈٹ نہ کروانے والے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 فروری2019ء) پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے آڈٹ نہ کروانے والے کارپوریٹ سیکٹر کی فہرست طلب کرلی جبکہ آڈٹ حکام نے بتایا ہے کہ کئی ادارے اڈٹ سے انکار کر دیتے ہیں ،ہمارے اختیارات میں کسی بھی جرم کی نشاندہی یا ذمہ داری عائد کرنا نہیں،25 چیف فنانشل افسران کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے،سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا آڈٹ کررہے ہیں، پاک لیبیا،پاک چائنہ پاک سعودیہ سمیٹ 8 کمپنیاں آڈٹ سے انکاری ہیں، آڈیٹر جنرل کے ادارے کو کسی ادارے ماتحت کرنے کی بجائے الگ سے وزارت کا درجہ دیا جائے،ادارے کی بہتر کارکردگی کیلئے مزید قانون سازی کی جائے ۔

منگل کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس شاہدہ اختر علی کی صدارت میں ہوا جس میں آڈٹ حکام کی جانب سے بریفنگ میں بتایاگیا کہ آڈٹ کا مطلب پارلیمان کے منظور کردہ بجٹ کے صحیح استعمال کو یقینی بنانا ہے۔

(جاری ہے)

بریفنگ میں بتایاگیا کہ کئی ادارے آڈٹ سے انکار کر دیتے ہیں۔ بریفنگ میں بتایاگیا کہ آڈٹ سے انکار کا مطلب پارلیمان کے اختیار کو کم کرنے کے مترادف ہے۔

بریفنگ میں بتایاگیا کہ آڈٹ کا مقصد بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔ بریفنگ میں بتایاگیا کہ ادارے سمجھتے ہیں کہ آڈٹ حکام اپنی رپورٹ میں کرپشن کی نشاندہی کریں۔ بریفنگ میں کہاگیاکہ ہمارے اختیارات میں کسی بھی جرم کی نشاندہی یا ذمہ داری عائد کرنا نہیں۔ بریفنگ میں بتایاگیا کہ مستقبل میں قانون سازی میں آڈیٹرز کو اس طرح کے سوالات سے تحفظ فراہم کیا جائے۔

بریفنگ میں کہاگیاکہ اچیف فنانشل اور اکائونٹس آفیسرز کو وزارتوں اور اداروں نے تسلیم ہی نہیں کیا۔ بریفنگ میں کہاگیاکہ وزارتوں میں چیف فنانشل افسران کو سیکرٹریز نے ان کی ذمہ داریاں ادا کرنے میں بھی تعاون نہیں کیا۔ بریفنگ میں کہاگیاکہ 25 چیف فنانشل افسران کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ نور عام خان نے آڈٹ حکام نے استفسار کیا کہ جو ادارے آڈٹ کرانے میں تعاون نہیں کرتے ان کے نام بتائے جائیں ۔

نور عالم خان نے کہاکہ جب ادارے آڈٹ نہیں کرائیں گے تو شفافیت کیسے آئیگی ۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ کچھ اداروں کے ساتھ ہمارے معاملات چل رہے ہیں ،کارپوریٹ کمپنیان آڈٹ نہیں کرنے دیتیں ۔بتایاگیا کہ پاک لیبیا،پاک چائنہ پاک سعودیہ سمیٹ 8 کمپنیاں آڈٹ سے انکاری ہیں۔ آڈٹ حکام کے مطابق پی ٹی سی ایل بھی آڈٹ کرانے سے انکاری ہے ۔آڈٹ حکام نے بتایا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا آڈٹ کررہے ہیں ۔

حکام کے مطابق آڈٹ نہ کر انے والے ادارے نہیں چاہتے کہ ان کے آڈٹ رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش ہو ۔آڈٹ حکام کے مطابق ایسے اداروں کی فہرست بنائی ہے جو اپنا آڈٹ نہیں کرانا چاہتے ۔ انہوں نے کہاکہ جہاں بھی سرکاری ایک پیسہ بھی خرچ ہوا ہو تو ان کا آڈٹ لازمی ہے ۔آڈٹ حکام نے کہا کہ ایف آئی اے کی طرح آڈٹ حکام کے پاس اختیارات نہیں۔اجلاس کے دور ان آڈٹ حکام نے ادارے کی بہتر کارکردگی کیلئے مزید قانون سازی کا مطالبہ کیا ۔

آڈٹ حکام کے مطابق ادارہ 1988میں بنایا گیا عملے اور دفاتر کی کمی ہے ،جونیر افسروں سے اعلی بیوروکریٹ تعاون نہیں کرتے ۔آڈٹ حکام کے مطابق آڈٹ اہلکاروں اور افسروں کے سکیل اپ گریڈ کرنا ضروری ہے ۔آڈٹ حکام نے بتایا کہ فنڈز کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔آڈٹ حکام نے بتایا کہ تمام آئینی ادارے خود مختار ہیں لیکن آڈیٹر جنرل کا ادارہ اٹیچ ڈپیارٹمنٹ ہے۔ آڈٹ حکام کے مطابق آڈیٹر جنرل کے ادارے کو کسی ادارے ماتحت کرنے کی بجائے الگ سے وزارت کا درجہ دیا جائے۔