مسلم لیگ ، پیپلز پارٹی اور مشرف حکومتوں کا ستیاناس کرنیوالے اکٹھے ہو کر اب موجودہ حکومت کا ستیاناس کرنے پر تلے ہوئے ہیں‘ لیاقت بلوچ

اب اسٹیبلشمنٹ کو بھی مائنڈ سیٹ بدلنا ہوگا ، 70 سالہ ناکام تجربات کے باوجود سنبھلنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے ‘ سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی

منگل فروری 15:20

مسلم لیگ ، پیپلز پارٹی اور مشرف حکومتوں کا ستیاناس کرنیوالے اکٹھے ہو ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 فروری2019ء) جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ کشکول کی معیشت اور ڈھول کی سیاست سے تبدیلی نہیں آسکتی ، دیرپا تبدیلی کے لیے نظریہ پاکستان کو بنیاد بنا کر اپنے لوگوں پر اعتماد اور خود انحصاری کا باعزت راستہ اختیار کرناہوگا ،مسلم لیگ ، پیپلز پارٹی اور مشرف حکومتوں کا ستیاناس کرنے والے اکٹھے ہو کر اب موجودہ حکومت کا ستیاناس کرنے پر تلے ہوئے ہیں، ان سے معیشت درست ہو سکتی ہے نہ حکومت چلتی ہے ، یہ بھان متی کا کنبہ ہے اینٹ کہیں کی اور روڑا کہیں کاہے اسی لیے ایک کا منہ مشرق اور دوسرے کا مغرب کی طرف ہے ، اب اسٹیبلشمنٹ کو بھی مائنڈ سیٹ بدلنا ہوگا ، 70 سالہ ناکام تجربات کے باوجود سنبھلنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوںنے منصورہ میں مرکزی تربیت گاہ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ اداروں سے سیاست کا خاتمہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے کرنے والوں نے اداروں میں مدا خلت کو اپنا وطیرہ بنالیاہے ۔ احتساب کے نعرے لگاتے ہیں لیکن جب اپنے وزیر اور رشتہ دار احتساب کی زد میں آتے ہیں تو یہ چپ سادھ لیتے ہیں ۔ کرپٹ مافیا پی پی ، مسلم لیگ ، پی ٹی آئی اور اداروں میں ہر جگہ موجود ہے ۔

یہ مافیا چاہتاہے کہ احتساب کا سلسلہ بند ہو جائے اور انہوںنے جو لوٹ مار کی ہے ، اس کے بارے میں ان سے کوئی پوچھنے والا نہ ہو لیکن قوم اب بے لاگ احتساب اور لوٹی گئی دولت کی واپسی پر کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں۔ پاکستان کو بچانا ہے تو احتساب کرنا اور قومی خزانے کو لوٹ کر دولت باہر منتقل کرنے والوں سے ایک ایک پائی وصول کرنا ہوگی ۔ انہوںنے کہاکہ جماعت اسلامی ملک میں غلبہ دین اور نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ کی جدوجہد کر رہی ہے ہمیں جس طرح کل کا سورج طلو ع ہونے کا یقین ہے اس سے بڑھ کر یہ یقین ہے کہ پاکستان میں دین غالب ہو کر رہے گا ۔

ملک و قوم کی خوشحالی اسلام کے عادلانہ نظام سے ہی ممکن ہے ۔ انہوںنے کہاکہ دنیا کا بیانیہ بدل رہاہے امریکہ اور نیٹو سترہ سال افغانستان کے پہاڑوں سے سر ٹکرانے کے بعد عبرتناک شکست کھا کر افغانستان سے نکلنے پر مجبور ہوئے ہیں ، اسی طرح بھارت کو کشمیر اور اسرائیل کو فلسطین سے نکلنا پڑے گا ۔ دریں اثنا لیاقت بلوچ نے میرپور میں کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یکجہتی کشمیر پاکستان کے ہر فرد کی رگوں میں دوڑتے خون کے اہم ترین جزو کی مانند ہے ۔

عالمی برادری اپنی بے حسی اور مجرمانہ غفلت ترک کرے ، بیانیہ بدلے ، کشمیر میں انسانی المیوں کو روکا جائے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلایا جائے ۔ انہوںنے کہاکہ ہندوستان کی قیادت جان لے افغانستان کے بعد امریکہ اسرائیل سے بھی دست بردار ہوگا ۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ مولانا فضل الرحمن کا اسلام آباد کی جانب ملین مارچ کا اعلان کوئی خفیہ منصوبہ نہیں انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کے کراچی ، لاہور ، ملتان ، سکھر اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ملین مارچ جلسوں میں اعلان کیا ہواہے ۔

جماعت اسلامی نے ان تمام تحفظ ناموس رسالت ؐمارچوں میں شرکت کی ہے ۔ علاوہ ازیں لیاقت بلوچ نے بتایا کہ میرپور آزاد کشمیر میں ملی یکجہتی کونسل کے اجلاس میں عبدالرشید ترابی کو صدر ، علامہ امتیاز صدیقی کو جنرل سیکرٹری ، مولانا امتیاز عباسی ، محمد صادق نقوی کو نائب صدر منتخب کیا گیا ۔ آزاد جموں و کشمیر کی کونسل نے اتفاق رائے سے اپنی قیادت کا انتخاب کیا ۔ اجلاس میں علامہ عارف حسین واحدی ، سید صفد ر گیلانی ، علامہ ثاقب اکبر اور ڈاکٹر خالد محمود بھی موجود تھے ۔ انہوںنے کہاکہ آزاد کشمیر تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ ہے ملی یکجہتی کونسل بھر پور اور فعال کردار ادا کرے گی ۔